اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے پاکستان جنرل کاسمیٹکس بل 2026 کو مزید جانچ کے لیے زیر غور رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ جعلی کاسمیٹک مصنوعات کے خلاف مؤثر ضابطہ کاری، صارفین کے تحفظ اور ریگولیٹری اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال سے متعلق خدشات کو قانون سازی میں واضح طور پر حل کیا جا سکے۔

سینیٹر کامل علی آغا کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اس بل اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی جانب سے پیش کردہ ترامیم پر غور کیا گیا۔ بل کو سینیٹ نے 14 اکتوبر کے اجلاس میں دوبارہ قائمہ کمیٹی کے پاس بھیجا تھا تاکہ مجوزہ ترامیم کا تفصیلی جائزہ لے کر رپورٹ پیش کی جا سکے۔ سرکاری پارلیمانی ریکارڈ کے مطابق پاکستان جنرل کاسمیٹکس بل 2026 اگست میں سینیٹ میں پیش کیا گیا تھا اور قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے پاس زیر التوا ہے۔

کمیٹی کی بحث میں کاسمیٹکس مارکیٹ میں غیر معیاری یا جعلی مصنوعات، صارفین کی صحت اور ریگولیٹری نفاذ کے طریقہ کار سے متعلق نکات سامنے آئے۔ ارکان نے اس امر پر زور دیا کہ قانون ایسا ہونا چاہیے جو ایک طرف صارفین کو نقصان دہ اور جعلی مصنوعات سے تحفظ دے اور دوسری طرف نگرانی کرنے والے اداروں کے اختیارات کی حدود بھی واضح رکھے تاکہ کاروباری اداروں کے خلاف غیر ضروری یا من مانا استعمال نہ ہو۔

کمیٹی نے طے کیا کہ وزارت قانون و انصاف کے نمائندوں کو آئندہ غور و خوض میں شامل کیا جائے تاکہ مجوزہ ترامیم کی قانونی ساخت، اختیارِ سماعت اور نفاذ کے پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس مرحلے پر بل منظور نہیں ہوا؛ یہ کمیٹی کی مزید scrutiny میں ہے اور اس کی حتمی شکل سینیٹ میں رپورٹ، ممکنہ ترامیم اور بعد کی پارلیمانی کارروائی کے بعد ہی طے ہوگی۔

اجلاس میں وفاقی وزرا اور متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔ کمیٹی کا اگلا قانونی جائزہ اس بات کے تعین میں اہم ہوگا کہ کاسمیٹکس کے لیے وفاقی ضابطہ کار نظام کس طرح تشکیل پاتا ہے، ذمہ دار اداروں کو کتنے اختیارات دیے جاتے ہیں اور صارفین و صنعت دونوں کے لیے شکایات اور نفاذ کا طریقہ کس حد تک واضح کیا جاتا ہے۔