اسلام آباد: سینیٹ کی صنعت و پیداوار سے متعلق ذیلی کمیٹی نے پاکستان اسٹیل ملز کی انتظامیہ کو ادارے کے وسیع احاطے کی سکیورٹی مضبوط بنانے اور تازہ ترین آڈٹ رپورٹ ایک ہفتے کے اندر پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کمیٹی نے یہ احکامات بار بار چوری کے واقعات، احاطے کے بعض حصوں کے کھلے ہونے اور زمین پر تجاوزات سے متعلق خدشات کے تناظر میں دیے۔

سینیٹر سید مسرور احسن کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی نے پاکستان اسٹیل ملز سے 36 ٹن مواد کی چوری کے ایک مقدمے کا بھی جائزہ لیا۔ کمیٹی نے مبینہ طور پر ملوث ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی اور کہا کہ ایسے افراد کو مل کے احاطے میں داخلے سے روکا جائے۔ اس مرحلے پر ملازمین سے متعلق الزامات کو حتمی عدالتی جرم نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ متعلقہ فوجداری کارروائی جاری ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ 36 ٹن مواد کی چوری کے مقدمے میں پولیس چالان جمع کرا چکی ہے، تاہم چوری شدہ مواد کی ریکوری ابھی باقی ہے۔ حکام نے یہ بھی بتایا کہ مختلف چوری کے معاملات میں انتظامی سطح، متعلقہ اداروں اور عدالتوں کے ذریعے کارروائی کے ساتھ فوجداری مقدمات بھی چل رہے ہیں اور بعض کیسز میں چوری شدہ مواد واپس حاصل کیا گیا ہے۔

پاکستان اسٹیل ملز کئی برسوں سے آپریشنل، مالی اور اثاثہ جاتی مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ بند یا محدود سرگرمیوں والے بڑے صنعتی احاطے میں مشینری، دھات، دیگر اثاثوں اور زمین کی حفاظت ایک مستقل انتظامی چیلنج ہے۔ ذیلی کمیٹی کی تازہ ہدایات کا مرکز اس وقت موجود حفاظتی خامیوں کی نشاندہی، آڈٹ ریکارڈ کی فراہمی اور مبینہ چوری کے واقعات پر جواب دہی ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس وقت ڈی ایس ایف اہلکار پاکستان اسٹیل ملز میں تعینات ہیں، جبکہ وزارت دفاع نے حال ہی میں ان اہلکاروں کی واپسی کی درخواست کی ہے۔ اس صورتحال نے مل کے متبادل سکیورٹی انتظامات کی اہمیت بڑھا دی ہے، کیونکہ وسیع رقبے پر پھیلے صنعتی اثاثوں اور تنصیبات کی نگرانی کے لیے مسلسل افرادی قوت اور واضح ذمہ داری درکار ہے۔

ذیلی کمیٹی کی جانب سے ایک ہفتے میں آڈٹ رپورٹ طلب کرنے کا مقصد دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر اثاثوں، حفاظتی انتظامات اور ممکنہ نقصانات کی صورتحال کا جائزہ لینا ہے۔ رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ کمیٹی مزید کن انتظامی یا قانونی اقدامات کی سفارش کرتی ہے۔ فی الحال 36 ٹن چوری کے کیس میں پولیس چالان جمع ہونے کے باوجود مکمل ریکوری نہ ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔