اسلام آباد: سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی نرسری میں آتشزدگی سے 14 نومولود بچوں کی اموات کے معاملے میں فوری ایف آئی آر درج کرنے اور ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ وزیراعظم کی ہدایات کے باوجود اب تک مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔
پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والے اجلاس کے دوران پمز حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ واقعے پر کوئی ایف آئی آر تاحال درج نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر اقبال درانی نے چیئرپرسن کے سوال پر اس صورت حال کی تصدیق کی۔ سینیٹر سید مسرور احسن نے نشاندہی کی کہ وزیراعظم نے مبینہ طور پر ذمہ دار آٹھ ملازمین کی خدمات ختم کرنے اور ذمہ داروں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کی ہدایت دی تھی، جس کے بعد کمیٹی نے عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ پوچھی۔
سینیٹر زہری نے غفلت اور جانی نقصان سے متعلق فوری ایف آئی آر کے ساتھ ذمہ دار قرار پانے والے حکام کے خلاف فوجداری کارروائی کی ہدایت دی۔ انہوں نے ذمہ دار افراد کے اثاثے منسلک کرنے اور معطل اہلکاروں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی بات بھی کی۔ یہ کمیٹی کی ہدایات اور سفارشات ہیں؛ کسی فرد کی فوجداری ذمہ داری یا جرم کا حتمی تعین تفتیش اور عدالتی عمل کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔
کمیٹی نے اسی اجلاس میں جڑانوالہ کے 16 اگست 2023 کے واقعات کا بھی جائزہ لیا۔ حکام نے بتایا کہ 389 افراد گرفتار کیے گئے تھے اور متعدد مقدمات میں کارروائی یا تو زیر سماعت ہے یا مکمل ہو چکی ہے۔ چیئرپرسن نے متاثرہ خاندانوں کے نقصانات کا دوبارہ مناسب تخمینہ لگانے اور تصدیق شدہ نقصان کی بنیاد پر معاوضہ دینے کی ہدایت کی۔ حکومتی نمائندے نے بتایا کہ ہر متاثرہ خاندان کے لیے 20 لاکھ روپے دینے کا منصوبہ ہے، تاہم بعض خاندانوں نے رقم کو حقیقی نقصان کے مقابلے میں ناکافی قرار دیا۔
اجلاس میں بچوں سے بھیک منگوانے، ایک صفائی کارکن کی موت اور مختلف زیر تفتیش انسانی حقوق کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔ پمز نرسری آتشزدگی کے معاملے میں کمیٹی کی مرکزی تشویش یہ رہی کہ 14 بچوں کی اموات کے باوجود فوجداری مقدمے کے اندراج میں تاخیر کیوں ہوئی۔ اب متعلقہ حکام کو کمیٹی کی ہدایات کے مطابق قانونی کارروائی آگے بڑھانی ہوگی، جبکہ ذمہ داری کے تعین کے لیے شواہد اور ضابطہ فوجداری کے تقاضے لاگو ہوں گے۔




