اسلام آباد میں سینیٹ نے ایک ترمیمی بل منظور کیا ہے جس کا مقصد ایسے سابق ارکانِ پارلیمان کو بھی سرکاری بلیو پاسپورٹ رکھنے اور استعمال کرنے کی اہلیت دینا ہے جنہوں نے قومی اسمبلی یا سینیٹ کی مکمل آئینی مدت پوری نہ کی ہو۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ بل سینیٹر عبدالقادر نے پیش کیا اور ایوانِ بالا نے پاسپورٹس ایکٹ 1974 میں نئی دفعہ 3-اے شامل کرنے کی منظوری دی۔ تاہم قانون بننے کے لیے بل کا قومی اسمبلی سے منظور ہونا بھی ضروری ہے، اس لیے سینیٹ کی منظوری کو حتمی قانونی نفاذ نہیں سمجھا جا سکتا۔

منظور شدہ ترمیم کے مطابق ایسا ریٹائرڈ پارلیمنٹیرین جس نے قومی اسمبلی یا سینیٹ کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھایا ہو، خواہ اس نے مکمل مدت پوری کی ہو یا کسی دوسرے رکن کی باقی ماندہ مدت کے لیے منتخب یا نامزد ہوا ہو، مقررہ شرائط کے تحت عہدہ چھوڑنے کے بعد جاری کردہ مفت سرکاری بلیو پاسپورٹ رکھنے اور استعمال کرنے کا اہل ہوگا۔ موجودہ قواعد کے تحت سابق ارکان کے لیے مدتِ رکنیت سے متعلق شرائط موجود رہی ہیں، جنہیں اس ترمیم کے ذریعے تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اسی اجلاس میں سابق ارکانِ پارلیمان کے زیر کفالت 28 سال سے کم عمر بچوں تک بلیو پاسپورٹ کی سہولت بڑھانے سے متعلق الگ تجویز آگے نہیں بڑھ سکی۔ رپورٹ کے مطابق حکومتی ارکان کی مخالفت کے بعد یہ بل واپس لے لیا گیا۔ اس فرق کی وضاحت اہم ہے کیونکہ سینیٹ نے سابق ارکان کی اپنی اہلیت سے متعلق ایک بل منظور کیا، لیکن اہل خانہ خصوصاً زیر کفالت بچوں کے لیے سہولت بڑھانے والی الگ تجویز منظور نہیں ہوئی۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایوان کو بتایا کہ ملک میں جاری سرکاری بلیو پاسپورٹس کی تعداد 75 ہزار سے کم کرکے 45 ہزار کی گئی اور تقریباً 30 ہزار غیر ضروری یا غیر فعال پاسپورٹس منسوخ کیے گئے۔ ان کے مطابق بعض ممالک کی جانب سے سرکاری پاسپورٹس کی بڑی تعداد پر تحفظات سامنے آئے تھے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی بلیو پاسپورٹس کے ضابطہ کار پر زور دیا اور کہا کہ یہ دستاویز بنیادی طور پر سرکاری امور سے متعلق ہے۔

بلیو پاسپورٹ پاکستان میں مخصوص آئینی، حکومتی اور عدالتی عہدوں، سینئر سرکاری اہلکاروں اور قواعد کے تحت اہل افراد کو جاری کیا جاتا ہے۔ اس سے متعلق مراعات اور ویزا سہولتیں دوسرے ممالک کے ساتھ انتظامات پر منحصر ہوتی ہیں۔ زیر بحث ترمیم کا بنیادی نکتہ سابق پارلیمنٹیرین کی اہلیت میں مدتِ رکنیت کے فرق کو ختم کرنا ہے، نہ کہ ہر سابق رکن کے خاندان کو خودکار طور پر یہی حق دینا۔

اس مرحلے پر خبر کا تصدیق شدہ نتیجہ سینیٹ سے بل کی منظوری ہے۔ قومی اسمبلی کی منظوری اور بعد کے آئینی و قانونی مراحل مکمل ہونے سے پہلے اسے نافذ شدہ قانون قرار دینا درست نہیں ہوگا۔