اسلام آباد/کراچی: قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے کراچی کے ضلع شرقی میں چھ ماہ کے ایک بچے میں جنگلی پولیو وائرس کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد 2026 کے دوران پاکستان میں رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز کی مجموعی تعداد سات ہو گئی ہے۔ ڈان اور جیو نیوز کی رپورٹس کے مطابق متاثرہ بچہ ضلع شرقی کی یونین کونسل جمالی کالونی سے تعلق رکھتا ہے۔ کراچی میں اس سے قبل آخری پولیو کیس دسمبر 2024 میں رپورٹ ہوا تھا، اس طرح شہر میں ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصے کے وقفے کے بعد نیا کیس سامنے آیا ہے۔
این ای او سی کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اب تک خیبر پختونخوا سے پانچ اور سندھ سے دو پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ تازہ کیس ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان پولیو وائرس کی مقامی منتقلی ختم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ ممالک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس اب بھی مقامی طور پر موجود ہے، اس لیے ہر نئے کیس کو انسدادِ پولیو پروگرام کے لیے اہم نگرانی اور ویکسینیشن چیلنج سمجھا جاتا ہے۔
پولیو ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو بالخصوص پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتی ہے اور بعض صورتوں میں مستقل فالج یا موت کا سبب بن سکتی ہے۔ اس بیماری کا کوئی مخصوص علاج نہیں، جبکہ ویکسینیشن اس سے بچاؤ کا بنیادی ذریعہ ہے۔ صحت حکام کی حکمت عملی میں بچوں کو بار بار پولیو ویکسین پلانا، ماحولیاتی نمونوں کے ذریعے وائرس کی نگرانی اور کسی کیس یا مثبت نمونے کے بعد ہدفی ردعمل شامل ہوتا ہے۔
جیو نیوز کے مطابق این ای او سی نے نومبر میں ملک گیر ویکسینیشن مہم کا بھی ذکر کیا ہے جس میں 2 کروڑ 39 لاکھ سے زائد بچوں تک پہنچنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ تازہ کیس کی تصدیق سرکاری پولیو ایمرجنسی نظام سے منسوب ہے؛ دستیاب رپورٹس میں بچے کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ حکام کے لیے اب بنیادی توجہ وائرس کی مقامی ترسیل کے ممکنہ سلسلے کا سراغ لگانے، متاثرہ اور ملحقہ علاقوں میں ویکسین کوریج بہتر بنانے اور ایسے بچوں تک رسائی یقینی بنانے پر رہے گی جو سابقہ مہمات میں ویکسین سے محروم رہ گئے ہوں۔

