اسلام آباد: سینیٹ نے ایک ترمیمی بل منظور کیا ہے جس کا مقصد ایسے سابق ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹ کو بھی سرکاری بلیو پاسپورٹ برقرار رکھنے کی اہلیت دینا ہے جنہوں نے اپنی پارلیمانی مدت مکمل نہ کی ہو۔ بل سینیٹر عبدالقادر نے پیش کیا اور اس کے تحت پاسپورٹس ایکٹ 1974 میں نئی دفعہ 3-اے شامل کرنے کی تجویز منظور کی گئی ہے۔ یہ قانون بننے کے لیے ابھی قومی اسمبلی کی منظوری اور آئینی عمل کے باقی مراحل سے گزرے گا۔

منظور شدہ متن کے مطابق ایسا ریٹائرڈ پارلیمنٹرین جس نے قومی اسمبلی یا سینیٹ کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھایا ہو، خواہ اس نے مکمل مدت گزاری ہو یا کسی دوسرے رکن کی باقی ماندہ مدت کے لیے ایوان کا حصہ بنا ہو، مقررہ شرائط کے تحت عہدہ چھوڑنے کے بعد جاری کردہ سرکاری بلیو پاسپورٹ رکھنے اور استعمال کرنے کا اہل ہوگا۔ اس ترمیم کا اطلاق ان ارکان پر بھی ہوگا جو قومی اسمبلی کی پانچ سالہ یا سینیٹ کی چھ سالہ مدت مکمل ہونے سے پہلے عہدہ چھوڑ دیں۔

موجودہ قواعد کے تحت سابق پارلیمنٹرین کے لیے کم از کم ایک مکمل پارلیمانی مدت پوری کرنے کی شرط کا ذکر کیا گیا ہے۔ بل کے اغراض و مقاصد میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ مجوزہ تبدیلی اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو حاصل سہولتوں کے ساتھ یکساں سلوک پیدا کرے گی۔ تاہم یہ منظوری صرف سینیٹ کی سطح پر ہوئی ہے، اس لیے اسے نافذ شدہ حق یا فوری قانونی تبدیلی کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

اسی اجلاس میں سابق ارکان پارلیمان کے 28 سال سے کم عمر زیر کفالت بچوں تک بلیو پاسپورٹ کی سہولت بڑھانے والا ایک الگ بل حکومتی ارکان کی مخالفت کے بعد واپس لے لیا گیا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ ملک میں جاری بلیو پاسپورٹس کی تعداد 75 ہزار سے کم کر کے 45 ہزار کی گئی اور تقریباً 30 ہزار غیر ضروری یا غیر فعال پاسپورٹس منسوخ کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق بعض ممالک نے سرکاری پاسپورٹس کی بڑی تعداد پر تحفظات ظاہر کیے تھے۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی سرکاری پاسپورٹس کے ضابطے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ یہ دستاویز بنیادی طور پر سرکاری امور کے لیے ہے۔ بحث میں سینیٹرز نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان کے لیے اہلیت کے قواعد میں فرق پر بھی اعتراض اٹھایا۔ اب منظور شدہ ترمیم کا اگلا اہم مرحلہ قومی اسمبلی ہے، جہاں منظوری کے بغیر یہ قانون نافذ نہیں ہوگا۔