ڈیرہ غازی خان: وفاقی وزیر توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ ڈی جی خان ایئرپورٹ کو بین الاقوامی پروازوں کے قابل بنانے کے لیے توسیعی منصوبے پر عملی کام شروع ہو گیا ہے اور اس کی تکمیل جنوری 2028 تک متوقع ہے۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی 19 اکتوبر کی سرکاری اطلاع کے مطابق منصوبے کی لاگت 5.5 ارب روپے بتائی گئی ہے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کی ٹیمیں موقع پر کام کر رہی ہیں۔
اویس لغاری نے منصوبے کے معائنے کے دوران جاری کام، بالخصوص رن وے کی توسیع، کا جائزہ لیا۔ سرکاری بیان کے مطابق اپ گریڈیشن کا بنیادی مقصد ایئرپورٹ کو بین الاقوامی پروازوں کے لیے موزوں بنانا اور جنوبی پنجاب کے رہائشیوں کو بہتر فضائی سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ بہتر فضائی رابطہ خطے میں کاروباری سرگرمی، آمدورفت اور معاشی مواقع بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے، تاہم ان ممکنہ اثرات کی مقدار سے متعلق کوئی الگ سرکاری تخمینہ جاری نہیں کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیراعظم کی جانب سے ڈیرہ غازی خان کے لیے اعلان کردہ بڑے ترقیاتی منصوبوں میں ایئرپورٹ کی توسیع کے علاوہ کینسر اسپتال، طویل مدتی سیوریج منصوبہ اور سڑکوں کی توسیع و بحالی بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق سیوریج منصوبے کو آئندہ پچاس برس کی ضروریات سامنے رکھ کر ڈیزائن کیا جا رہا ہے، جبکہ سڑکوں کی بہتری سے شہری آمدورفت آسان بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
ایئرپورٹ منصوبے کے بارے میں دستیاب سرکاری تفصیلات فی الحال لاگت، کام کے آغاز، رن وے کی توسیع اور جنوری 2028 کی ہدفی تکمیل تک محدود ہیں۔ بین الاقوامی آپریشنز کے آغاز کی حتمی تاریخ، ممکنہ روٹس، ایئرلائنز یا پروازوں کی تعداد کے بارے میں سرکاری بیان میں کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے منصوبے کی تکمیل کے ہدف اور باقاعدہ بین الاقوامی فلائٹ آپریشن کے آغاز کو الگ مراحل سمجھنا ضروری ہے۔
منصوبہ مکمل ہونے کی صورت میں ڈی جی خان اور گرد و نواح کے مسافروں کو بین الاقوامی سفر کے لیے بڑے شہروں کے ہوائی اڈوں پر انحصار کم کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ تاہم اس مرحلے پر یہ ایک زیر تعمیر سرکاری منصوبہ ہے، اور اس کی پیش رفت، تکمیل اور بعد کے آپریشنل انتظامات سول ایوی ایشن اتھارٹی اور متعلقہ حکومتی اداروں کی آئندہ پیش رفت سے واضح ہوں گے۔

