قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے انسداد پولیو نے کراچی ایسٹ میں پولیو کے ایک نئے کیس کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد پاکستان میں 2026 کے دوران رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز کی مجموعی تعداد سات ہوگئی ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق ان سات کیسز میں پانچ خیبرپختونخوا سے سامنے آئے ہیں، جن میں چار صوبے کے جنوبی اضلاع سے ہیں، جبکہ دو کیس سندھ میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

پولیو ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو خاص طور پر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتی ہے اور بعض صورتوں میں مستقل فالج کا سبب بن سکتی ہے۔ اس بیماری کا کوئی علاج نہیں، تاہم ویکسین کے ذریعے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔ انسداد پولیو پروگرام نے والدین اور کمیونٹیز پر زور دیا ہے کہ ہر مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائے جائیں۔

قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق پاکستان میں پولیو کے کیسز میں گزشتہ دہائیوں کے مقابلے میں بڑی کمی آئی ہے۔ 1990 کی دہائی کے آغاز میں سالانہ کیسز کی تعداد تقریباً 20 ہزار بتائی جاتی تھی، جبکہ 2025 میں 31 کیس رپورٹ ہوئے تھے۔ رواں سال اب تک سات کیس سامنے آئے ہیں، تاہم وائرس کی موجودگی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ویکسینیشن مہم کا تسلسل اور ہر بچے تک رسائی بدستور ضروری ہے۔

حکام کے مطابق 2026 میں اب تک ملک بھر میں چار بڑی پولیو ویکسینیشن مہمات چلائی جا چکی ہیں جن میں مجموعی طور پر ساڑھے چار کروڑ سے زیادہ بچوں کو ہدف بنایا گیا۔ ان مہمات کے علاوہ زیادہ خطرے والے علاقوں میں محدود سطح پر زبانی اور انجیکشن کے ذریعے ویکسینیشن کی سرگرمیاں بھی کی گئی ہیں۔ ستمبر میں ہونے والی ذیلی قومی مہم کے دوران دو کروڑ 93 لاکھ سے زیادہ بچوں کو ویکسین دی گئی۔

اگلی انسداد پولیو مہم 2 نومبر سے 8 نومبر تک چلانے کا منصوبہ ہے۔ قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق اس مرحلے میں 97 اضلاع کے تقریباً دو کروڑ 40 لاکھ بچوں کو ویکسین دینے کا ہدف رکھا گیا ہے اور کراچی کے تمام اضلاع بھی مہم میں شامل ہوں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وائرس کی منتقلی روکنے کے لیے بار بار ویکسینیشن، والدین کا تعاون اور ان علاقوں میں خصوصی توجہ ضروری ہے جہاں بچوں کے ویکسین سے محروم رہنے کا خطرہ زیادہ ہو۔