کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما مہرنگ بلوچ کی بغاوت اور دہشت گردی سے متعلق ایک مقدمے میں بریت کے خلاف صوبائی حکومت کی اپیل ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کردی ہے۔ دو رکنی بینچ نے پیر 19 اکتوبر کو اپیل پر سماعت کی اور استغاثہ کے اختیار سے متعلق بنیادی قانونی سوال اٹھایا۔

یہ مقدمہ اکتوبر 2024 میں کراچی کے ضلع ملیر کے قائد آباد تھانے میں ایک نجی شہری اسد علی شمس کی شکایت پر درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں مہرنگ بلوچ پر لوگوں کو اکسانے اور سکیورٹی اداروں کے خلاف الزامات لگانے سمیت متعدد الزامات عائد کیے گئے تھے۔ مقدمے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 کے ساتھ پاکستان پینل کوڈ کی بغاوت، فساد، گروہی دشمنی، ہتک عزت اور عوامی فساد سے متعلق دفعات شامل کی گئی تھیں۔ یہ تمام نکات الزامات کی نوعیت بیان کرتے ہیں، کسی عدالتی طور پر ثابت شدہ جرم کی نہیں۔

کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 2025 میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 265-K کے تحت مہرنگ بلوچ کی بریت کی درخواست منظور کی تھی۔ اس کے بعد قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل نے ریاست کی جانب سے دسمبر 2025 میں سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے مقدمے کے حقائق اور استغاثہ کے پاس موجود مبینہ شواہد کو مناسب طور پر نہیں دیکھا۔

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس شمس الدین عباسی کی سربراہی میں بینچ، جس میں جسٹس میران محمد شاہ شامل تھے، نے سماعت کے دوران نشاندہی کی کہ ایف آئی آر کا شکایت کنندہ ایک نجی شخص تھا۔ عدالت نے سوال کیا کہ ایسی صورت میں بریت کے خلاف اپیل خود شکایت کنندہ کے بجائے استغاثہ کس قانونی بنیاد پر دائر کرسکتا ہے۔ مہرنگ بلوچ کی جانب سے ایڈووکیٹ جبران ناصر نے دلائل دیے۔

استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے الزامات عائد ہونے سے پہلے بریت کی درخواست منظور کرکے مبینہ طور پر مقدمے کے اہم مواد کو نظرانداز کیا۔ تاہم ہائیکورٹ نے موجودہ اپیل کو قابل سماعت نہیں سمجھا اور اسے خارج کردیا۔ یہ فیصلہ اسی مخصوص مقدمے میں 2025 کی بریت کے خلاف صوبائی اپیل سے متعلق ہے۔

مہرنگ بلوچ اس وقت دیگر مقدمات کے سلسلے میں کوئٹہ جیل میں ہیں۔ جون میں ایک کوئٹہ انسداد دہشت گردی عدالت نے انہیں اور ایک دوسرے بلوچ یکجہتی کمیٹی رہنما کو 2024 کے گوادر احتجاج سے منسلک ایک الگ مقدمے میں سزائیں سنائی تھیں؛ اس فیصلے کے خلاف ان کی اپیل بلوچستان ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے۔ کراچی کے مقدمے میں سندھ ہائیکورٹ کا تازہ حکم ان الگ کارروائیوں کا فیصلہ نہیں کرتا۔