سندھ ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ سندھ سیلز ٹیکس آن سروسز قانون کے تحت ڈیفالٹ سرچارج ادا کرنا ایک سخت قانونی ذمہ داری ہے جس کا مقصد تاخیر سے ہونے والے مالی نقصان کی تلافی ہے۔ ڈان کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق دو رکنی بینچ نے واضح کیا کہ سرچارج عائد کرنے کے لیے یہ ثابت کرنا ضروری نہیں کہ ٹیکس دہندہ نے جان بوجھ کر ادائیگی روکی یا اس کی بدنیتی موجود تھی۔ فیصلہ سندھ ریونیو بورڈ کی 12 یکساں خصوصی سیلز ٹیکس ریفرنس درخواستوں پر سنایا گیا۔

جسٹس آغا فیصل اور جسٹس شاہ نواز میمن پر مشتمل بینچ نے کہا کہ سندھ ریونیو بورڈ کے افسر، کمشنر یا اپیلٹ ٹریبونل کو محض مالی دشواری، مساوات، ہمدردی یا ارادے کی عدم موجودگی کی بنیاد پر سرچارج معاف، کم یا مؤخر کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ عدالت کے مطابق قانون میں جہاں مخصوص ذمہ داری مقرر ہو وہاں عدالتی یا انتظامی فورم اپنی طرف سے ایسا استثنا نہیں بنا سکتا جو مقننہ نے فراہم نہ کیا ہو۔

مقدمات کی بنیاد ان اپیلٹ ٹریبونل احکامات پر تھی جن میں ایک درجن صنعتوں، بینکوں اور نجی اداروں پر سندھ ریونیو بورڈ کی جانب سے عائد ڈیفالٹ سرچارج ختم کیا گیا تھا۔ ٹریبونل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ادائیگی میں تاخیر جان بوجھ کر ثابت نہیں ہوئی اور بدنیتی موجود نہیں تھی۔ ہائی کورٹ نے اس منطق کو قانون کے ڈھانچے سے مطابقت نہ رکھنے والا قرار دیتے ہوئے ریفرنس درخواستیں نمٹا دیں۔

عدالت نے کورونا وبا کے دوران سندھ کی تجارتی زندگی میں آنے والی رکاوٹوں کو تسلیم کیا، مگر کہا کہ ہمدردی دائرۂ اختیار کا متبادل نہیں بن سکتی۔ فیصلے میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ سندھ سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ میں وبائی حالات کے لیے ریلیف حاصل کرنے کا راستہ موجود تھا۔ قانون کی دفعات 17(3) اور 45 کے تحت سندھ ریونیو بورڈ مختلف ادائیگی وقت مقرر یا سرچارج سے استثنا دے سکتا تھا، لیکن متعلقہ فریقوں نے وہ قانونی طریقہ اختیار نہیں کیا۔

یہ فیصلہ اس فرق کو نمایاں کرتا ہے کہ ٹیکس کی اصل ذمہ داری، تاخیر کا تلافیاتی سرچارج اور سزا نما کارروائی الگ قانونی تصورات ہو سکتے ہیں۔ موجودہ حکم ان 12 ریفرنس درخواستوں اور سندھ کے متعلقہ قانون کی تشریح سے متعلق ہے؛ اسے ہر وفاقی یا صوبائی ٹیکس تنازع پر خودکار طور پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ متاثرہ فریقوں کے مزید قانونی راستے ان کے کیس اور قابلِ اطلاق قانون کے مطابق طے ہوں گے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک