اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ زراعت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور رہائشی شعبے کے لیے قرضوں کی دستیابی میں اضافہ کیا جائے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق یہ ہدایات اسلام آباد میں ایکسیس ٹو فنانس پلان 2026-28 پر پیش رفت کے جائزہ اجلاس میں دی گئیں، جہاں حکومت نے جون 2028 تک زرعی فنانسنگ کو 2 ٹریلین روپے تک پہنچانے کا ہدف سامنے رکھا۔

وزیراعظم نے اجلاس میں کہا کہ معیشت کے ان شعبوں کو رسمی مالیاتی نظام تک بہتر رسائی دینا پیداوار، روزگار اور سرمایہ کاری کے لیے اہم ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں زرعی قرضوں کے ساتھ ایس ایم ایز اور کم و متوسط آمدن والے شہریوں کے لیے ہاؤسنگ فنانس کے اہداف اور پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم آفس کے مطابق اپنا گھر اسکیم کے تحت اب تک 147,504 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ اجلاس میں متعلقہ اداروں کو درخواستوں کی جانچ، قرضوں کی فراہمی اور بینکاری نظام کے ذریعے فنانسنگ کی رفتار بہتر بنانے پر توجہ دینے کی ہدایت کی گئی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ محدود مالی وسائل رکھنے والے گھرانوں اور کاروباری افراد کو باضابطہ قرض تک رسائی دینے سے غیر رسمی اور مہنگے قرض پر انحصار کم ہو سکتا ہے۔

زرعی شعبے میں قرضوں کا 2 ٹریلین روپے کا ہدف اس پس منظر میں اہم ہے کہ کسانوں کو بیج، کھاد، زرعی مشینری، پانی اور دیگر پیداواری اخراجات کے لیے بروقت سرمائے کی ضرورت رہتی ہے۔ تاہم قرضوں کے اہداف کی کامیابی صرف منظور شدہ حجم پر نہیں بلکہ حقیقی تقسیم، علاقائی رسائی، چھوٹے کسانوں کی شمولیت اور واپسی کی شرائط پر بھی منحصر ہوگی۔

وزیراعظم نے بینکوں سے کہا کہ وہ ایس ایم ایز کے لیے بھی فنانسنگ کے دائرے کو وسیع کریں۔ پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے کاروبار روزگار اور مقامی تجارت میں نمایاں کردار رکھتے ہیں، مگر رسمی قرض تک محدود رسائی ان کی توسیع میں ایک دیرینہ رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔ سرکاری بیان میں مقرر کردہ اہداف پیش کیے گئے ہیں؛ ان کے عملی نتائج آئندہ تقسیم شدہ قرضوں اور استفادہ کنندگان کے اعدادوشمار سے واضح ہوں گے۔