اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے نائب صدر کے ساتھ ملاقات میں پاکستان ریلوے کے مین لائن ون (ایم ایل ون) منصوبے کے جلد سنگ بنیاد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کو ہونے والی بات چیت میں بڑے ریلوے انفراسٹرکچر منصوبے کو آگے بڑھانے اور اس کے عملی آغاز سے متعلق امور زیر غور آئے۔

ایم ایل ون پاکستان کے مرکزی ریلوے نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن سے متعلق ایک بڑا منصوبہ ہے اور طویل عرصے سے ملک کی ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس پالیسی میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد مرکزی ریلوے لائن کی صلاحیت، رفتار، حفاظت اور آپریشنل کارکردگی میں بہتری لانا ہے، تاہم اس کے مختلف مراحل، مالی بندوبست اور عمل درآمد کی تفصیلات وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہی ہیں۔

وزیراعظم کی اے ڈی بی قیادت سے گفتگو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت منصوبے کے مالی اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ عملی پیش رفت تیز کرنا چاہتی ہے۔ رپورٹ میں وزیراعظم کی جانب سے جلد گراؤنڈ بریکنگ پر زور دینے کا ذکر ہے، تاہم کسی نئی حتمی افتتاحی تاریخ یا مکمل مالی پیکیج کی تفصیل اس خبر میں حتمی طور پر طے شدہ نہیں بتائی گئی۔ اس لیے منصوبے کے آغاز کے شیڈول سے متعلق سرکاری اعلان کو بنیادی حوالہ سمجھا جائے گا۔

پاکستان میں ریل کے ذریعے مسافر اور مال برداری کی صلاحیت بڑھانے کو سڑکوں پر دباؤ کم کرنے اور اندرون ملک تجارت کی لاگت بہتر بنانے کے ایک ممکنہ ذریعے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایم ایل ون جیسے بڑے منصوبے کی پیش رفت تعمیراتی سرگرمی، اسٹیشنوں اور ٹریک کی اپ گریڈیشن، سگنلنگ اور دیگر تکنیکی نظاموں سے جڑی ہو سکتی ہے، مگر ہر جزو کی حتمی نوعیت منظور شدہ منصوبہ بندی کے مطابق ہوگی۔

اے ڈی بی پاکستان میں توانائی، ٹرانسپورٹ، شہری خدمات اور دیگر ترقیاتی شعبوں میں مالی معاونت فراہم کرتا رہا ہے۔ ایم ایل ون پر موجودہ اعلیٰ سطحی رابطہ منصوبے کے اگلے مرحلے کے لیے اہم ہے، لیکن عملی تعمیر، فنڈنگ اور ٹائم لائن کے بارے میں مزید وضاحت متعلقہ حکومت اور مالیاتی ادارے کے باقاعدہ فیصلوں کے بعد سامنے آئے گی۔