وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اتوار 13 ستمبر کو سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں انہوں نے سعودی عرب کی شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حالیہ حوثی حملوں کی شدید مذمت اور سعودی قیادت و عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم آفس کے بیان، جسے ریڈیو پاکستان اور ایکسپریس ٹریبیون نے رپورٹ کیا، کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ حالیہ حملے نہ صرف علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی کو بھی مزید متاثر کر سکتے ہیں۔ گفتگو ایسے وقت ہوئی جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور سعودی توانائی تنصیبات و انفراسٹرکچر پر حملوں نے وسیع تر اقتصادی اور سلامتی خدشات کو جنم دیا ہے۔

بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ وہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ مل کر کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔ یہ بیان پاکستان کی جانب سے موجودہ بحران میں سفارتی کردار ادا کرنے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے، تاہم سرکاری اطلاع میں کسی نئے مذاکراتی فارمولے، باضابطہ ثالثی معاہدے یا فوجی اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا۔

شہباز شریف نے بحران کے دوران سعودی ولی عہد کی قیادت کو سراہا اور خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے لیے نیک خواہشات بھی پہنچائیں۔ سعودی ولی عہد نے پاکستان کی حمایت اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اس کی کوششوں کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا اور جلد ملاقات کی خواہش بھی ظاہر کی۔

یہ تازہ رابطہ پاکستان کی جانب سے گزشتہ دنوں حوثی حملوں کے خلاف کیے گئے بیانات کے تسلسل میں ہے۔ پاکستان پہلے بھی سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے حمایت کا اظہار کر چکا ہے اور اقوام متحدہ میں یمن کے مسئلے پر کشیدگی میں کمی، مکالمے اور سیاسی حل کی حمایت کر چکا ہے۔

موجودہ گفتگو میں سب سے نمایاں نکتہ یہ ہے کہ اسلام آباد نے ایک بار پھر دو متوازی پوزیشنیں سامنے رکھیں: سعودی عرب کے ساتھ واضح سیاسی و سفارتی یکجہتی، اور ساتھ ہی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے لیے سفارتی کوششوں کے تسلسل پر زور۔ دستیاب سرکاری بیان میں کسی عملی فوجی ردعمل یا نئی دفاعی کارروائی کی تفصیل شامل نہیں، اس لیے خبر میں ایسے کسی اقدام کو مفروضے کے طور پر بھی شامل نہیں کیا گیا۔