وزیراعظم شہباز شریف نے لندن اسٹاک ایکسچینج میں پاکستان کے 3 ارب ڈالر مالیت کے دو حصوں پر مشتمل خودمختار یورو بانڈ کی لسٹنگ کا باضابطہ افتتاح کیا اور اسٹاک ایکسچینج کا تجارتی سیشن کھولا۔ ڈان کی 30 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی وزیراعظم بن گئے۔ تقریب لندن اسٹاک ایکسچینج کے مرکزی دفتر میں ہوئی جہاں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی، پاکستان کے ہائی کمشنر اور لندن اسٹاک ایکسچینج گروپ کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ شوئمر سمیت متعلقہ حکام موجود تھے۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت نے گزشتہ برسوں میں معیشت کے بڑے اشاریوں کو بہتر بنانے، ساختی اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن پر کام کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی بانڈ لسٹنگ پاکستان کی عالمی سرمایہ منڈیوں میں واپسی کی علامت ہے اور حکومت اسے بیرونی سرمایہ کاروں کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے موقع کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ یہ دعویٰ حکومت کا مؤقف ہے؛ بانڈ کی مارکیٹ کارکردگی اور سرمایہ کاروں کے طویل مدتی ردعمل کا تعین آئندہ تجارتی اعدادوشمار سے ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے لندن میں بارکلیز، جے پی مورگن، سٹی، بلیک راک اور روتھس چائلڈ اینڈ کمپنی کے سینئر نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم آفس کے بیان میں کہا گیا کہ ان ملاقاتوں میں پاکستان میں سرمایہ کاری، مالیاتی خدمات کے دائرہ کار اور جاری معاشی اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شہباز شریف نے بین الاقوامی اداروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیاں بڑھانے کی دعوت دی۔
وزیراعظم نے خلیجی خطے کی کشیدگی کے باعث عالمی سرمایہ کاری کے ماحول میں پیدا ہونے والے خطرات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ سرمایہ کار نسبتاً محفوظ منڈیوں کا دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کو بھی بیان کیا، تاہم اس تقریب کا بنیادی محور یورو بانڈ کی لسٹنگ اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ اقتصادی روابط تھا۔
یورو بانڈ کی لسٹنگ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان بیرونی فنانسنگ، قرضوں کے انتظام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ نئی لسٹنگ حکومت کے لیے بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹ تک رسائی کی ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن اس کے حقیقی مالی اثرات شرح سود، بانڈ کی ثانوی مارکیٹ میں قیمت، ملک کے بیرونی کھاتے اور آنے والے عرصے میں سرمایہ کاری کے بہاؤ سے واضح ہوں گے۔
