اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے لیے یوگنڈا کے امیدوار اولارا اوٹونو نے ملاقات کی، جس میں عالمی ادارے کے کردار، اقوام متحدہ کے منشور اور آئندہ سیکریٹری جنرل کی ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم آفس کے مطابق ملاقات 4 ستمبر کو اسلام آباد میں ہوئی۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں سے اپنی وابستگی برقرار رکھتا ہے۔ انہوں نے عالمی قانون اور بین الاقوامی معاہدوں کے احترام کی ضرورت پر زور دیا اور کثیرالجہتی نظام کے ساتھ ساتھ عالمی امور میں اقوام متحدہ کے کردار کے لیے پاکستان کی مضبوط اور مسلسل حمایت کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے کام کے تین بنیادی ستونوں—امن و سلامتی، ترقی اور انسانی حقوق—کے درمیان متوازن اور باہم مربوط طرزِ عمل کی اہمیت بیان کی۔ ان کے مطابق عالمی ادارے کے اگلے سربراہ کو ان تینوں شعبوں کو الگ الگ نہیں بلکہ ایک دوسرے سے جڑی ترجیحات کے طور پر آگے بڑھانا چاہیے۔ ملاقات میں کسی مخصوص امیدوار کی باضابطہ حمایت یا ووٹ سے متعلق سرکاری اعلان رپورٹ نہیں کیا گیا۔

اولارا اوٹونو نے کثیرالجہتی نظام میں پاکستان کی طویل خدمات پر شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق انہوں نے اقوام متحدہ کے تینوں ستونوں میں پاکستان کی شراکت اور عالمی امن و سلامتی کی کوششوں میں پاکستانی قیادت کے کردار کو سراہا۔ یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے جب موجودہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی مدت کے اختتام سے پہلے نئے سربراہ کے انتخاب کا عمل جاری ہے۔

اوٹونو کے ہمراہ یوگنڈا کے صدر کے خصوصی ایلچی اور سابق وزیراعظم روہاکانا روگونڈا بھی تھے۔ پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ شریک ہوئیں۔ وفود کی موجودگی سے ملاقات کو خارجہ پالیسی اور اقوام متحدہ سے متعلق اعلیٰ سطح کی مشاورت کی حیثیت حاصل رہی۔

ملاقات کا مصدقہ نتیجہ پاکستان کے اصولی مؤقف کی تجدید اور امیدوار کے ساتھ ترجیحات کا تبادلہ ہے۔ وزیراعظم آفس کے جاری کردہ متن میں انتخابی عمل کی اگلی تاریخ، پاکستان کے حتمی فیصلے یا کسی تحریری مفاہمت کا ذکر نہیں، اس لیے ان امور کے بارے میں قیاس آرائی درست نہیں ہوگی۔