کراچی/شنگھائی: سندھ حکومت نے شنگھائی میں منعقدہ دوسری سندھ سرمایہ کاری کانفرنس کے دوران چینی اور پاکستانی کاروباری و سرکاری اداروں کے ساتھ 34 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مطابق ان سمجھوتوں کا مقصد صوبے میں سرمایہ کاری، روزگار، صنعتی سرگرمی اور پاکستان و چین کے درمیان معاشی تعاون کو بڑھانا ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ایک روزہ کانفرنس تقریباً 12 سال کے وقفے کے بعد منعقد ہوئی اور اس میں لگ بھگ 400 مندوبین شریک ہوئے، جن میں سرمایہ کار، کاروباری رہنما، چینی کمپنیاں اور مالیاتی اداروں کے نمائندے شامل تھے۔ مفاہمتی یادداشتوں میں حکومت سے حکومت اور کاروبار سے کاروبار تعاون کے منصوبے شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ نے سندھ کو مینوفیکچرنگ اور برآمدی صنعتوں کے لیے نسبتاً کم لاگت والی منزل قرار دیتے ہوئے صوبے کے جغرافیائی محل وقوع، بندرگاہوں تک رسائی، افرادی قوت، صنعتی صلاحیت اور علاقائی منڈیوں سے روابط کو نمایاں کیا۔ انہوں نے چینی سرمایہ کاروں کو توانائی، مینوفیکچرنگ، زراعت اور نئی ٹیکنالوجیز سمیت مختلف شعبوں میں مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔
رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت نے مخصوص سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے دس سال تک ٹیکس مراعات کی پیشکش کا بھی ذکر کیا۔ تاہم مفاہمتی یادداشتیں بذاتِ خود حتمی سرمایہ کاری، مالیاتی بندش یا منصوبوں کی تکمیل کی ضمانت نہیں ہوتیں۔ ہر منصوبے کو اپنی نوعیت کے مطابق تفصیلی معاہدوں، مالی بندوبست، ریگولیٹری منظوریوں اور عمل درآمد کے مراحل سے گزرنا ہوگا۔ اس لیے 34 ایم او یوز کو ممکنہ تعاون کے فریم ورک کے طور پر دیکھا جائے گا، نہ کہ تمام منصوبوں میں سرمایہ کاری کی حتمی وصولی کے طور پر۔
کانفرنس میں سندھ حکومت نے توانائی اور صنعتی منصوبوں کے ساتھ زرعی ویلیو چین، ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتے شعبوں میں بھی شراکت داری بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔ صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ چینی کمپنیوں کے ساتھ طویل مدتی روابط سے نئی صنعتیں، برآمدات اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاروں کے لیے سہولت کاری اور ادارہ جاتی رابطہ بہتر بنانے کی کوشش کرے گی۔ اب ان مفاہمتی یادداشتوں کی عملی اہمیت اس بات سے طے ہوگی کہ کتنے منصوبے تفصیلی تجارتی معاہدوں، سرمایہ کاری کی منظوری، تعمیر یا پیداوار کے مرحلے تک پہنچتے ہیں۔ سندھ حکومت کے لیے اگلا مرحلہ دستخط شدہ سمجھوتوں کی نگرانی، متعلقہ محکموں اور سرمایہ کاروں کے درمیان رابطے اور طے شدہ منصوبوں کو قابل عمل سرمایہ کاری میں تبدیل کرنا ہوگا۔
