سندھ حکومت اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے لیے زیر التوا تکنیکی اور انتظامی معاملات کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور اے ڈی بی کے متعلقہ عہدیدار کے درمیان ملاقات میں منصوبے کے ٹرمز آف ریفرنس حتمی کرنے، مطلوبہ زمین کی دستیابی کی تصدیق اور ڈیزائن کے کام کو آگے بڑھانے پر بات ہوئی۔ سندھ حکومت نے منصوبے کی بحالی کو کراچی کے ٹرانسپورٹ مسائل کے حل کے لیے اہم قرار دیا۔
کراچی سرکلر ریلوے کئی دہائیوں سے شہر کے بڑے پبلک ٹرانسپورٹ منصوبوں میں شمار ہوتی ہے، لیکن اس کی مکمل بحالی مختلف مالی، انتظامی، زمین اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق مسائل کی وجہ سے بار بار تاخیر کا شکار رہی ہے۔ منصوبے کے لیے موجودہ ریلوے کوریڈور، اسٹیشنوں، رابطہ سڑکوں اور شہری ٹرانسپورٹ کے دوسرے نظاموں کے ساتھ انضمام جیسے معاملات اہم ہیں۔
ملاقات میں زمین کی دستیابی کی تصدیق کو خاص اہمیت دی گئی کیونکہ بڑے شہری ریل منصوبوں میں راستے کے حقوق، تجاوزات اور متعلقہ سرکاری اداروں کی ملکیت کے معاملات تعمیراتی شیڈول پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔ اسی طرح ٹرمز آف ریفرنس حتمی ہونے کے بعد مشاورتی، ڈیزائن اور مالیاتی مراحل کے لیے زیادہ واضح فریم ورک سامنے آسکتا ہے۔
اے ڈی بی پاکستان میں شہری ٹرانسپورٹ اور بنیادی ڈھانچے کے متعدد منصوبوں میں مالی اور تکنیکی تعاون فراہم کرتا رہا ہے۔ کراچی کے لیے قابل اعتماد ماس ٹرانزٹ نظام کی ضرورت آبادی، ٹریفک کے دباؤ اور سفر کے بڑھتے اخراجات کے باعث مسلسل بڑھ رہی ہے۔ موجودہ اتفاق رائے منصوبے کی فوری تکمیل کی ضمانت نہیں، بلکہ تیاری کے اہم مراحل کو آگے بڑھانے کی پیش رفت ہے۔ آئندہ عملی رفتار کا انحصار ڈیزائن، فنانسنگ، زمین اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کے واضح ہونے پر ہوگا۔
