کراچی: سندھ اسمبلی نے پیر 14 ستمبر 2026 کو سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں ترامیم کا بل اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج اور نعرے بازی کے دوران منظور کر لیا۔ ڈان کے مطابق وزیر قانون سندھ ضیاء الحسن لنجار نے مجوزہ ترامیم کا جائزہ لینے کے لیے قائم خصوصی کمیٹی کی رپورٹ پیش کرنے کے بعد بل ایوان میں متعارف کرایا۔ اپوزیشن ارکان نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے منتخب بلدیاتی اداروں کے اختیارات سے متعلق متنازع اقدام قرار دیا، تاہم ایوان نے قانون سازی کا عمل مکمل کر لیا۔

ترمیمی قانون کی ایک نمایاں شق کے مطابق کسی بلدیاتی کونسل کی آئینی مدت پوری ہونے پر موجودہ میئر یا چیئرمین نئی منتخب قیادت کے عہدہ سنبھالنے تک اسی کونسل کے ایڈمنسٹریٹر کے طور پر اختیارات استعمال کر سکے گا۔ قانون میں یہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کونسل کی مدت ختم ہونے سے 120 دن پہلے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے نئے انتخابات کرانے کی درخواست کرے گی تاکہ انتخابی عمل مقررہ مدت کے اندر مکمل ہو سکے۔

بل کے تحت اگر ڈپٹی میئر یا وائس چیئرمین ملک سے باہر ہو یا اپنے فرائض انجام دینے کے قابل نہ ہو تو حکومت اس کے بعض فرائض کسی دوسرے رکن کو سونپ سکے گی۔ مزید یہ کہ یونین کونسل، یونین کمیٹی، ٹاؤن کمیٹی اور میونسپل کمیٹی کی سطح پر مصالحتی فورمز قائم کرنے کی شق شامل کی گئی ہے۔ ہر فورم میں تین ایسے مقامی افراد شامل ہوں گے جنہیں دیانت، متوازن رائے اور سماجی ساکھ کی بنیاد پر منتخب کیا جائے گا، اور ان فورمز کو مقامی نوعیت کے تنازعات کے پرامن حل کا کام دیا جائے گا۔

ترامیم میں بلدیاتی اداروں کی ذمہ داریوں کے دائرے کو بھی کچھ حد تک بڑھایا گیا ہے۔ یونین کونسلوں کو اپنے علاقوں میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے مسائل، بلڈنگ کنٹرول کی خلاف ورزیوں اور غیر مجاز تعمیرات کی نشاندہی کرکے متعلقہ اداروں کو اطلاع دینے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ عوامی خدمات کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق تفصیلی نقشے متعلقہ دستاویزات میں شامل کرنے کی شق بھی موجود ہے۔

اپوزیشن جماعتیں اس مسودے کی پہلے ہی مشترکہ طور پر مخالفت کر چکی تھیں اور ان کا مؤقف تھا کہ یہ ترامیم منتخب بلدیاتی نظام کو کمزور کر سکتی ہیں۔ حکومت کا مؤقف اس کے برعکس یہ ہے کہ مجوزہ تبدیلیوں کا مقصد بلدیاتی نظم، خدمات کی فراہمی اور ادارہ جاتی تسلسل کو بہتر بنانا ہے۔ بل کی منظوری کے بعد اب اس کے عملی اثرات کا انحصار قواعد، صوبائی انتظامیہ کے فیصلوں اور آئندہ بلدیاتی انتخابات کے شیڈول پر ہوگا۔