کوئٹہ: سیکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں 14 ستمبر 2026 کو کیے گئے ایک آپریشن کے دوران کمانڈر نقیب سمیت تین مبینہ عسکریت پسند مارے گئے۔ سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان، ریڈیو پاکستان اور دیگر قومی ذرائع ابلاغ نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ آپریشن میں ایک گاڑی کو کواڈ کاپٹر کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں گاڑی تباہ ہوئی اور اس میں موجود تین افراد ہلاک ہوئے۔
سیکیورٹی ذرائع نے ہلاک ہونے والے افراد کو اس گروہ سے منسلک قرار دیا جسے ریاستی بیانیے میں ’فتنہ الہندوستان‘ کہا جاتا ہے، اور نقیب کو اس گروہ کا کمانڈر بتایا۔ تاہم دستیاب سرکاری رپورٹ میں ہلاک افراد کے مکمل شناختی کوائف، ان کے خلاف درج مقدمات، آزادانہ فرانزک تفصیلات یا آپریشن کے مقام و وقت کی مزید جزئیات جاری نہیں کی گئیں۔ اس لیے ان کی تنظیمی وابستگی اور کردار سے متعلق دعوے سیکیورٹی ذرائع سے منسوب ہیں۔
ذرائع کے مطابق فورسز نے گاڑی کی نقل و حرکت کی نشاندہی کے بعد اسے کواڈ کاپٹر سے نشانہ بنایا۔ کارروائی میں کسی سیکیورٹی اہلکار کے جانی نقصان کا ذکر نہیں کیا گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بعد میں آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور اسے دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کا حصہ قرار دیا۔
یہ واقعہ بلوچستان میں جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے سلسلے میں سامنے آیا ہے۔ صوبے میں حالیہ مہینوں کے دوران مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے متعدد انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن رپورٹ ہوئے ہیں۔ مستونگ کی موجودہ کارروائی کے بارے میں ابتدائی معلومات بنیادی طور پر سیکیورٹی ذرائع اور سرکاری میڈیا سے آئی ہیں؛ کسی آزاد تحقیقاتی ادارے کی علیحدہ تفصیلی رپورٹ فی الحال سامنے نہیں آئی۔
خبر میں ہلاک افراد کے بارے میں استعمال ہونے والی اصطلاحات کو سرکاری ذرائع کے دعووں کے تناظر میں پڑھا جانا چاہیے۔ کسی فرد کی سابقہ سرگرمیوں یا کسی مخصوص حملے میں ملوث ہونے سے متعلق علیحدہ عدالتی فیصلہ یا مکمل ثبوت اس ابتدائی رپورٹ کا حصہ نہیں ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ بلوچستان میں عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

