کراچی: پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا علی کی موت کی تحقیقات کے لیے قائم عدالتی کمیشن کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیس میں ان کے طبی مؤقف کے بعد انہیں مبینہ طور پر دھمکیاں ملیں اور دو دن تک موٹر سائیکل سوار افراد نے ان کا پیچھا کیا۔ انہوں نے کمیشن کو یہ بھی بتایا کہ انہیں کہا گیا کہ اگر وہ میر رضا کی موت کو خودکشی قرار دیں تو ان کے ساتھ ’نرم‘ رویہ اختیار کیا جائے گا۔ یہ تمام باتیں ڈاکٹر سمیعہ کے کمیشن کے سامنے دیے گئے بیان اور ان سے منسوب دعوے ہیں؛ ان دعوؤں پر کسی ملزم کے خلاف حتمی عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

میر رضا علی، جو آئی بی اے کے گریجویٹ اور کاروبار سے وابستہ تھے، جولائی کے آخر میں لاپتا ہونے کے بعد کراچی کے گلستانِ جوہر کے علاقے میں مردہ پائے گئے تھے۔ ان کے والد مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا اور انہوں نے خودکشی کے امکان کو مسترد کیا۔ کیس میں ابتدائی تفتیش اور پہلے پوسٹ مارٹم سے متعلق سوالات اٹھنے کے بعد عدالتی کمیشن بنایا گیا اور بعد میں طبی شواہد کا دوبارہ جائزہ بھی لیا گیا۔

ڈاکٹر سمیعہ نے کمیشن کو بتایا کہ انہوں نے دھمکیوں کے حوالے سے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو شکایت بھی دی۔ ان کے مطابق ان کے خلاف ایک عوامی مہم چلائی جا رہی ہے اور انہوں نے مقدمے میں اپنا پیشہ ورانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے اپنی ملازمت اور کیریئر کو خطرے میں ڈالا۔ کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے ان سے پوچھا کہ آیا انہیں سکیورٹی درکار ہے؛ رپورٹ کے مطابق انہوں نے پولیس اور بعد میں رینجرز سکیورٹی کی پیشکش بھی قبول نہیں کی۔

پولیس سرجن نے اپنے طبی مشاہدات دہراتے ہوئے کہا کہ میر رضا کے سر پر چوٹ کا نشان، ناک کی ہڈی ٹوٹنے کے آثار اور سر کے پچھلے حصے پر سخت چیز لگنے کا نشان موجود تھا۔ انہوں نے کمیشن کے سامنے یہ بھی کہا کہ بعض زخم زندگی کے دوران لگنے کی علامات رکھتے تھے، جسم پر کیمیائی جلنے کے نشان تھے اور قمیص پر ہائیڈروکلورک ایسڈ کی موجودگی رپورٹ ہوئی۔ انہوں نے سینے کے زخم کی ابتدائی تشریح سے اختلاف کرتے ہوئے اپنا مؤقف دیا کہ گولی کے داخل ہونے اور نکلنے کی سمت مختلف تھی۔ یہ طبی نکات جاری عدالتی و تفتیشی عمل کا حصہ ہیں اور کمیشن نے ابھی حتمی نتیجہ جاری نہیں کیا۔

جسٹس عمر سیال نے پولیس سرجن کو مبینہ دھمکیوں پر تشویش ظاہر کی اور متعلقہ فوکل پرسن کو ہدایت کی کہ سندھ کے وزیراعلیٰ اور وزیر داخلہ کو معاملے سے آگاہ کیا جائے۔ اس سے قبل بھی کمیشن تفتیش کے معیار اور سرکاری عہدیداروں کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھا چکا ہے، جبکہ صوبائی وزیر داخلہ نے ایک سابقہ سماعت میں ایڈووکیٹ جنرل کے رویے پر غیر مشروط معذرت کی تھی۔

میر رضا کیس میں اس مرحلے پر درست قانونی حیثیت یہ ہے کہ عدالتی کمیشن حقائق اور شواہد کا جائزہ لے رہا ہے۔ پولیس سرجن کے دعوے، خاندان کے الزامات، طبی نتائج اور تفتیشی مواد سب تحقیق کے مختلف حصے ہیں؛ کسی فرد کی مجرمانہ ذمہ داری یا موت کی حتمی نوعیت کمیشن، پولیس تفتیش اور ممکنہ عدالتی کارروائی کے نتیجے کے بغیر قطعی طور پر بیان نہیں کی جا سکتی۔