راولپنڈی: پاکستان اور انڈونیشیا نے دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو مزید وسعت دینے، فوجی سطح پر پیشہ ورانہ روابط مضبوط کرنے اور مشترکہ مشقوں و تربیت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انڈونیشیا کے چیف آف نیوی ایڈمرل ڈاکٹر محمد علی نے جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔

پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سکیورٹی کی صورتحال اور دوطرفہ دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فریقین نے پاکستان اور انڈونیشیا کے موجودہ فوجی روابط پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مزید گہرا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ خاص طور پر پیشہ ورانہ تربیت، دفاعی اشتراک اور مشترکہ فوجی مشقوں کو مستقبل کے تعاون کے اہم شعبے قرار دیا گیا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان انڈونیشیا کے ساتھ دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور دفاع و سلامتی کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انڈونیشین بحریہ کے سربراہ نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت کو سراہا اور علاقائی امن و استحکام میں ان کے کردار کا ذکر کیا۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک دفاعی سفارت کاری، افسران کی تربیت اور مختلف سطحوں پر فوجی رابطوں کو وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کسی نئے دفاعی معاہدے، ہتھیاروں کی خریداری یا مخصوص مشترکہ مشق کی تاریخ کا اعلان اس ملاقات میں نہیں کیا گیا، اس لیے موجودہ پیش رفت کو تعاون بڑھانے کے سیاسی و عسکری عزم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ کسی فوری نئے معاہدے کے طور پر۔

ایڈمرل ڈاکٹر محمد علی نے صدر آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کی اور ان کے دورۂ پاکستان کے دوران انہیں پاکستان اور انڈونیشیا کے تعلقات کے فروغ میں خدمات کے اعتراف میں نشانِ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز دوطرفہ دفاعی تعلقات میں اعلیٰ سطحی رابطوں کی اہمیت کی علامت ہے۔

پاکستان اور انڈونیشیا دونوں بڑی مسلم آبادی رکھنے والے ممالک ہیں اور بحری سلامتی، علاقائی استحکام اور دفاعی تربیت جیسے شعبوں میں مشترکہ مفادات رکھتے ہیں۔ جی ایچ کیو میں ہونے والی گفتگو کے بعد عملی پیش رفت کا انحصار آئندہ تربیتی پروگراموں، وفود کے تبادلے، مشترکہ مشقوں اور متعلقہ دفاعی اداروں کے درمیان طے پانے والے انتظامات پر ہوگا۔