اسلام آباد: سپریم کورٹ نے گھریلو قتل اور خواتین کے خلاف جرائم کی تحقیقات میں صنفی حساس نقطۂ نظر اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ازدواجی گھر کی نجی نوعیت کسی ملزم کو احتساب سے بچانے کی ڈھال نہیں بن سکتی۔ دو رکنی بینچ نے کراچی میں اپنی اہلیہ عقیلہ بی بی کے قتل کے مقدمے میں مجرم حبیب اللہ کی جیل اپیل مسترد کرتے ہوئے عمر قید اور مقتولہ کے قانونی ورثا کو پانچ لاکھ روپے معاوضے کی سزا برقرار رکھی۔

بینچ میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ازدواجی گھر کے اندر بیوی کے غیر طبعی موت کے مقدمات اکثر مشکل شواہد والے معاملات ہوتے ہیں، کیونکہ واقعے کے وقت آزاد گواہ موجود نہیں ہوتے۔ عدالت نے واضح کیا کہ پاکستانی قانون شوہر کے خلاف خودکار طور پر جرم کا مفروضہ قائم نہیں کرتا اور ملزم کو بے گناہی کے اصول سمیت تمام قانونی تحفظات حاصل رہتے ہیں۔

تاہم عدالت نے قانون شہادت کے آرٹیکل 122 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حقائق جو خاص طور پر کسی شخص کے علم میں ہوں، ان کی معقول وضاحت کی ذمہ داری اس شخص پر آ سکتی ہے۔ اگر استغاثہ بنیادی حالات اور قرائن ثابت کر دے کہ غیر طبعی موت ازدواجی گھر کے اندر ہوئی اور شواہد ملزم کی طرف اشارہ کرتے ہوں، تو قابلِ اعتماد وضاحت نہ دینا قرائنی شواہد کی زنجیر میں ایک اہم کڑی بن سکتا ہے۔ عدالت نے ساتھ ہی تاکید کی کہ اس اصول کو استغاثہ کی بنیادی ذمہ داری ختم کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مقدمے میں عدالت نے پولیس تفتیش پر بھی تشویش ظاہر کی۔ فیصلے کے مطابق تفتیشی افسر نے خون آلود ہتھوڑا اور بستر کی چادر برآمد کی تھی، مگر انہیں ٹرائل کورٹ میں پیش نہیں کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے اسے سنگین تفتیشی کوتاہی قرار دیا اور مشاہدہ کیا کہ گھریلو قتل کے مقدمات پہلے ہی ثابت کرنا مشکل ہوتے ہیں، اس لیے شواہد جمع کرنے اور محفوظ رکھنے میں لاپروائی انصاف کی راہ مزید مشکل بنا دیتی ہے۔

عدالت نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ پولیس افسران کی ایسی تربیت یقینی بنائی جائے جس سے وہ صنفی اور پدرشاہی تعصبات کو پہچان سکیں اور خواتین کے خلاف جرائم کی تفتیش میں پیشہ ورانہ معیار اختیار کریں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شواہد کی درست شناخت، محفوظ تحویل اور تفتیشی غفلت پر جواب دہی کے نظام پر بھی توجہ دینے کو کہا گیا۔

یہ فیصلہ کسی بھی گھریلو موت میں خودکار طور پر شوہر یا خاندان کے فرد کو مجرم قرار دینے کا اصول نہیں بناتا۔ عدالت کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ تفتیش اور عدالتی عمل میں صنفی حساسیت کے ساتھ قانونی معیار، قرائنی شواہد اور ملزم کے بنیادی حقوق سب کو بیک وقت ملحوظ رکھا جائے۔