اسلام آباد: پاکستان اور لبنان نے سزا یافتہ افراد کی منتقلی کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے سزا یافتہ شہریوں کو طے شدہ قانونی طریقہ کار کے تحت اپنی باقی ماندہ سزا اپنے آبائی ملک میں مکمل کرنے کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ مفاہمتی یادداشت پر پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی اور لبنان کے وزیر داخلہ و بلدیات احمد الحجار نے 14 ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں دستخط کیے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف تقریب میں موجود تھے۔

وزیراعظم آفس کے سرکاری بیان کے مطابق احمد الحجار نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات بھی کی، جس میں پاکستان اور لبنان کے دوطرفہ تعلقات، داخلی سلامتی اور سیکیورٹی تعاون کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں جانب سے ان شعبوں میں بڑھتے ہوئے رابطوں پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش ظاہر کی گئی۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر ہاؤسنگ ریاض حسین پیرزادہ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی شریک تھے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق مفاہمتی یادداشت ایک ایسا قانونی فریم ورک فراہم کرتی ہے جس کے تحت پاکستان یا لبنان میں سزا پانے والا دوسرے ملک کا شہری، قابل اطلاق قوانین اور ضروری منظوریوں کے تحت، اپنی سزا کا باقی حصہ اپنے وطن میں گزار سکے گا۔ موجودہ اعلان میں انفرادی قیدیوں کے نام، منتقلی کی فوری تعداد یا کسی مخصوص کیس کا ذکر نہیں کیا گیا، اس لیے اسے کسی خاص شخص کی رہائی یا سزا میں کمی کے فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ انتظام سزا کے مقام کی منتقلی سے متعلق ہے، سزا ختم کرنے یا عدالتی فیصلے کو کالعدم کرنے سے متعلق نہیں۔

ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کی مذمت کی اور جانی و مالی نقصان پر ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ لبنانی وزیر داخلہ نے پاکستان کے موقف اور میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی۔ یہ سیاسی بیانات ملاقات کے سفارتی حصے سے متعلق تھے، جبکہ سزا یافتہ افراد کی منتقلی کی مفاہمتی یادداشت ایک الگ عملی اور قانونی تعاون کا نتیجہ رہی۔

لبنانی وزیر داخلہ کے دورے کے دوران داخلی سلامتی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے روابط اور مجرمانہ امور میں باہمی تعاون بھی زیرِ بحث آیا۔ صدر آصف علی زرداری سے ملاقات میں بھی دونوں ملکوں نے داخلی سیکیورٹی، قانون نافذ کرنے، انسدادِ منشیات، باہمی قانونی معاونت اور حوالگی کے معاملات میں روابط بڑھانے پر زور دیا۔ نئی مفاہمتی یادداشت اسی وسیع تر ادارہ جاتی تعاون میں ایک قابلِ عمل قانونی قدم کے طور پر سامنے آئی ہے۔