کراچی: سندھ اسمبلی نے 14 ستمبر 2026 کو شدید اپوزیشن احتجاج اور نعرے بازی کے دوران سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیمی بل 2026 منظور کر لیا۔ صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور ضیا الحسن لنجار نے خصوصی کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کرنے کے بعد بل متعارف کرایا، جسے اکثریتی ووٹ سے منظور کیا گیا۔ ایم کیو ایم پاکستان، پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی سمیت اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے مجوزہ تبدیلیوں کے خلاف احتجاج کیا اور بعض ارکان نے بل کی نقول پھاڑ دیں۔
ترمیمی قانون کی ایک اہم شق کے مطابق کسی بلدیاتی کونسل کی آئینی مدت مکمل ہونے کے بعد سبکدوش میئر یا چیئرمین نئے منتخب سربراہ کے حلف اٹھانے تک ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کونسل کے اختیارات اور فرائض انجام دے سکے گا۔ اس کے ساتھ صوبائی حکومت پر لازم ہوگا کہ موجودہ کونسل کی مدت ختم ہونے سے 120 دن پہلے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے نئی بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی درخواست کرے تاکہ انتخابی عمل مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جا سکے۔
قانون میں یہ گنجائش بھی شامل کی گئی ہے کہ اگر ڈپٹی میئر یا وائس چیئرمین ملک سے باہر ہو یا کسی وجہ سے فرائض انجام نہ دے سکے تو حکومت کونسل کے کسی دوسرے رکن کو اس عہدے کی ذمہ داریاں سونپ سکے گی۔ مزید برآں، یونین کونسل، یونین کمیٹی، ٹاؤن کمیٹی اور میونسپل کمیٹی کی سطح پر مصالحتی فورمز قائم کرنے کے لیے نیا باب شامل کیا گیا ہے۔ ہر فورم تین ایسے افراد پر مشتمل ہوگا جنہیں مقامی سطح پر دیانت، متوازن رائے اور اچھی شہرت کا حامل سمجھا جائے۔ ان فورمز کا مقصد مقامی تنازعات کو مقررہ طریقہ کار کے تحت باہمی رضامندی سے حل کرنے میں مدد دینا ہوگا۔
ترمیم کے تحت یونین کونسلوں کو اپنے علاقوں میں کچرے کے انتظام، بلڈنگ کنٹرول کی خلاف ورزیوں اور غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کر کے متعلقہ اداروں کو اطلاع دینے کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔ قانون بلدیاتی اداروں کو بعض ادارے خود قائم کرنے یا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے چلانے کی گنجائش دیتا ہے، جبکہ عوامی خدمات کے بنیادی ڈھانچے کے تفصیلی نقشے بھی متعلقہ دستاویزات میں شامل کیے جائیں گے۔
اپوزیشن جماعتوں نے ان ترامیم کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان سے بلدیاتی خودمختاری کمزور ہوگی اور سیاسی ایڈمنسٹریٹرز کے لیے راستہ کھلے گا۔ حکومتی موقف یہ ہے کہ تبدیلیوں کا مقصد مدت کے اختتام اور نئے انتخابات کے درمیان انتظامی خلا ختم کرنا اور مقامی خدمات کی تسلسل کے ساتھ فراہمی یقینی بنانا ہے۔ چونکہ اپوزیشن نے قانونی اور سیاسی فورمز پر بل کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے، اس لیے منظوری کے بعد بھی اس قانون پر سیاسی اور عدالتی بحث جاری رہنے کا امکان ہے۔
