راولپنڈی: انڈونیشیا کی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ڈاکٹر محمد علی نے جنرل ہیڈکوارٹرز میں چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی اور پاکستان و انڈونیشیا کے دفاعی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے مطابق ملاقات 14 ستمبر 2026 کو ہوئی اور دونوں فریقوں نے موجودہ فوجی روابط پر اطمینان کا اظہار کیا۔
سرکاری بیان کے مطابق پاکستان اور انڈونیشیا نے دفاعی تعاون کو خاص طور پر پیشہ ورانہ تربیت، ادارہ جاتی رابطوں، دفاعی اشتراک اور مشترکہ مشقوں کے شعبوں میں مزید وسعت دینے کا عزم ظاہر کیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان انڈونیشیا کے ساتھ دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے، بالخصوص دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو اہمیت دی جا رہی ہے۔
ایڈمرل ڈاکٹر محمد علی نے پاکستانی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت کی تعریف کی اور علاقائی امن و استحکام میں پاکستان کی مسلح افواج کے کردار کو سراہا۔ ملاقات میں کسی مخصوص دفاعی خریداری، نئے ہتھیاروں کے معاہدے یا کسی الگ آپریشنل منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا؛ سرکاری تفصیلات کا مرکز موجودہ فوجی روابط کو تربیت اور مشقوں کے ذریعے آگے بڑھانے پر رہا۔
پاکستان اور انڈونیشیا دونوں مسلم اکثریتی ایشیائی ممالک ہیں اور ان کے درمیان سفارتی و دفاعی روابط میں عسکری تربیت اور اعلیٰ سطحی دورے اہم ذریعہ رہے ہیں۔ موجودہ ملاقات میں علاقائی سلامتی کو ایجنڈے کا حصہ بنانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں فریق دفاعی تعاون کو صرف دوطرفہ پیشہ ورانہ رابطوں تک محدود رکھنے کے بجائے وسیع علاقائی ماحول کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔ تاہم سرکاری بیان نے کسی مخصوص علاقائی تنازع یا ملک کے خلاف مشترکہ موقف کی تفصیل جاری نہیں کی۔
انڈونیشین نیول چیف کا دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان مختلف دوست ممالک کے ساتھ دفاعی سفارت کاری، تربیتی تبادلوں اور مشترکہ مشقوں کے ذریعے عسکری روابط کو وسعت دے رہا ہے۔ دونوں جانب کی جانب سے موجودہ تعلقات پر اطمینان اور آئندہ تعاون کے واضح شعبوں کی نشاندہی اس ملاقات کا بنیادی نتیجہ رہا۔

