سندھ اسمبلی نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خلاف اپوزیشن کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے اس ٹیکس کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈان کے مطابق قرارداد جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے پیش کی، ایسے وقت میں جب جماعت اسلامی ملک کے مختلف شہروں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے خلاف احتجاج اور دھرنے کر رہی ہے۔

قرارداد پر بحث کے دوران صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور ضیاء الحسن لنجار نے واضح کیا کہ پٹرولیم لیوی وفاقی معاملہ ہے اور سندھ حکومت اسے خود ختم نہیں کر سکتی۔ اس کے باوجود ایوان نے قرارداد کی حمایت کی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بڑھتی ہوئی ایندھن قیمتوں کے تناظر میں لیوی واپس لی جائے۔ قرارداد کی منظوری صوبائی اسمبلی کی سیاسی رائے اور وفاق سے مطالبے کی حیثیت رکھتی ہے؛ اس سے وفاقی ٹیکس یا لیوی خود بخود ختم نہیں ہوتی۔

پٹرولیم لیوی حالیہ دنوں میں سیاسی تنازع کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ جماعت اسلامی نے قیمتوں میں اضافے کے خلاف اپنی مہم میں لیوی کے خاتمے کو مرکزی مطالبہ بنایا ہے۔ سندھ اسمبلی میں اس قرارداد کی متفقہ منظوری سے یہ معاملہ صوبائی پارلیمانی سطح پر بھی سامنے آیا ہے اور حکومت و اپوزیشن کے ارکان نے وفاقی پالیسی پر مشترکہ موقف اختیار کیا۔

ایوان کی کارروائی کے دوران سیاسی ماحول میں کشیدگی بھی دیکھی گئی اور ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان نے الگ معاملے پر احتجاج کیا، تاہم پٹرولیم لیوی سے متعلق قرارداد منظور ہوگئی۔ اب عملی فیصلہ وفاقی حکومت اور متعلقہ مالیاتی و توانائی حکام کے دائرہ اختیار میں ہے۔ کسی ممکنہ تبدیلی کے لیے وفاقی سطح پر پالیسی یا قانونی اقدام درکار ہوگا۔

قرارداد کی منظوری کو پٹرولیم قیمتوں میں فوری کمی کے سرکاری اعلان کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔ یہ وفاقی حکومت کو بھیجی گئی سیاسی و پارلیمانی سفارش ہے، جس پر آئندہ کارروائی کا انحصار مرکز کے فیصلے پر ہوگا۔