کراچی: سندھ اسمبلی نے جمعرات 3 ستمبر 2026 کو ایک قرارداد منظور کرکے صوبے کو تقسیم کرنے، اس کی موجودہ علاقائی حدود تبدیل کرنے یا سندھ کے اندر نیا صوبہ یا انتظامی اکائی قائم کرنے کی کسی بھی تجویز کو مسترد کر دیا۔ قرارداد پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور رکن اسمبلی نثار احمد کھوڑو نے پیش کی اور ایوان میں موجود ارکان نے اسے متفقہ طور پر منظور کیا۔ تاہم یہ منظوری ایم کیو ایم پاکستان اور جماعت اسلامی کے واک آؤٹ اور تحریک انصاف کے ارکان کی عدم موجودگی کے بعد ہوئی، اس لیے متفقہ ووٹ سے مراد اس وقت ایوان میں موجود ارکان ہیں۔
قرارداد میں سندھ کو ایک تاریخی، تہذیبی اور آئینی اکائی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ صوبے کا ہر ضلع، ڈویژن اور علاقہ اس کا لازمی اور ناقابلِ تقسیم حصہ ہے۔ ایوان نے ایسی کسی تجویز، منصوبے، آئینی بندوبست یا دوسرے نام سے پیش کیے جانے والے طریقے کو بھی رد کیا جس کے نتیجے میں سندھ کی حدود بدلیں، کوئی علاقہ الگ ہو، نیا صوبہ قائم ہو یا کسی حصے کو وفاقی یا جدا انتظامی انتظام کے تحت رکھا جائے۔
قرارداد میں آئین کے آرٹیکل 239 کی شق 4 کا حوالہ بھی دیا گیا، جس کے تحت کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی والی آئینی ترمیم صدر کو منظوری کے لیے بھیجنے سے پہلے متعلقہ صوبائی اسمبلی کے کم از کم دو تہائی کل ارکان سے منظور ہونا ضروری ہے۔ سندھ اسمبلی نے اعلان کیا کہ وہ صوبے کی علاقائی حدود میں کسی تبدیلی پر رضامند نہیں ہوگی اور اپنے آئینی اختیار کے ذریعے سندھ کی وحدت اور سالمیت کا تحفظ کرے گی۔
ایوان نے وفاقی حکومت، پارلیمان، سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں سے کہا کہ صوبے کے منتخب نمائندوں کی بار بار ظاہر کی گئی رائے کا احترام کیا جائے اور ایسی کسی تجویز کی حمایت یا پیش رفت نہ کی جائے جو سندھ کی موجودہ علاقائی ساخت کو متاثر کرے۔ قرارداد میں ماضی میں منظور کی گئی متعدد قراردادوں کا ذکر بھی کیا گیا جن میں صوبے کی وحدت کی توثیق کی گئی تھی۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ سندھ کی جغرافیائی وحدت پر سمجھوتا نہیں کیا جائے گا اور صوبے کی حدود سے متعلق فیصلہ اس کی منتخب اسمبلی کے آئینی اختیار کے اندر ہے۔ ان کے بیانات سیاسی مؤقف ہیں، جبکہ باضابطہ پارلیمانی نتیجہ منظور شدہ قرارداد ہے۔
اپوزیشن کی جماعتوں نے صوبے کی تقسیم سے انکار کرتے ہوئے مقامی حکومتوں کو اختیارات، انتظامی عدم مرکزیت اور نئی انتظامی اکائیوں پر بحث کی حمایت کی تھی۔ ایم کیو ایم پاکستان اور جماعت اسلامی نے کہا کہ ان کی تجاویز قرارداد میں شامل نہیں کی گئیں، جس کے بعد وہ ووٹنگ سے پہلے ایوان سے چلے گئے۔ یوں حکومتی اور اپوزیشن حلقوں کے درمیان بنیادی اختلاف یہ رہا کہ خدمات اور حکمرانی بہتر بنانے کے لیے انتظامی اکائیوں کی تشکیل کو سندھ کی حدود اور وحدت سے کس طرح الگ رکھا جائے۔
قرارداد خود آئین میں کوئی ترمیم نہیں اور نہ اس سے ملک کا انتظامی نقشہ تبدیل ہوا ہے؛ یہ سندھ اسمبلی کا باضابطہ سیاسی و آئینی مؤقف ہے۔ نئے صوبوں سے متعلق کسی عملی تبدیلی کے لیے وفاقی پارلیمان اور متعلقہ صوبائی اسمبلی سمیت آئین میں مقرر مکمل طریقۂ کار درکار ہوگا۔




