کراچی میں پی آئی ڈی سی کے قریب سیو سندھ لائرز کمیٹی کے احتجاج کے بعد سندھ حکومت اور وکلا نمائندوں کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔ ایکسپریس اردو کے مطابق صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ اور میئر کراچی حکومتی وفد کے ساتھ مظاہرین کے پاس پہنچے، جس کے بعد فریقین نے مطالبات کے جائزے کے لیے چھ رکنی کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا اور احتجاجی دھرنا ختم کردیا گیا۔

مجوزہ کمیٹی میں حکومت اور وکلا کے تین تین نمائندے شامل ہوں گے۔ سندھ حکومت نے وکلا سے اپنے نام فراہم کرنے کو کہا ہے اور نمائندوں کے مطابق ایک ہفتے میں کمیٹی قائم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ کمیٹی کے قیام پر فی الحال مستقبل کے احتجاج کا نیا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم مطالبات کی منظوری یا مسترد ہونے کا حتمی فیصلہ بھی اس مرحلے پر سامنے نہیں آیا۔

ناصر حسین شاہ نے میڈیا سے گفتگو میں سندھ کی تقسیم کو ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ حکومت برقرار رہے یا نہ رہے، وہ اس مؤقف پر قائم رہیں گے۔ یہ صوبائی وزیر کا سیاسی بیان ہے۔ اس خبر میں کسی باضابطہ آئینی ترمیم، صوبائی تقسیم کے منظور شدہ منصوبے یا قانونی فیصلے کی تصدیق نہیں کی جا رہی، کیونکہ رپورٹ کا مرکزی واقعہ احتجاج کے بعد مذاکرات اور کمیٹی کے قیام پر اتفاق ہے۔

سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر حسیب جمالی نے لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے جوڑنے کی بات کی، جبکہ وکلا نمائندوں نے کسانوں، سیاسی کارکنوں، آئینی ترامیم، کارونجھر اور بار ایسوسی ایشنز سے متعلق متعدد مطالبات پیش کیے۔ یہ مطالبات مظاہرین کا مؤقف ہیں؛ ان میں شامل ہر دعوے کو حکومتی یا عدالتی طور پر ثابت شدہ حقیقت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

احتجاج کے دوران وزیراعلیٰ ہاؤس کے اطراف بعض راستوں پر کنٹینر رکھے گئے اور ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ مذاکرات کے بعد دھرنا ختم ہونے کا اعلان تنازع کے مستقل حل کے برابر نہیں، کیونکہ اصل مطالبات اب مجوزہ کمیٹی میں زیرِبحث آئیں گے۔ قابل پیمائش پیش رفت کمیٹی کی باضابطہ تشکیل، اجلاس، تحریری سفارشات اور حکومتی فیصلے سے واضح ہوگی۔

اردو ہیڈ لائنز اس سیاسی و شہری معاملے میں تمام متنازع دعووں کو متعلقہ فریق کے نام سے منسوب کر رہا ہے۔ کمیٹی کے ارکان، دائرۂ کار یا فیصلوں کی سرکاری اطلاع جاری ہونے پر اسی خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا، جبکہ غیر مصدقہ آئینی مسودوں یا سوشل میڈیا فہرستوں کو خبر کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔