کراچی: سندھ حکومت نے صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں کے یومیہ تدریسی اوقات میں ایک گھنٹے کی کمی کر دی ہے۔ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈیپارٹمنٹ کے 9 ستمبر کو جاری سرکلر کے مطابق یہ تبدیلی حکم ثانی تک نافذ رہے گی اور پہلے سے مقرر پانچ روزہ اسکول ہفتے کے دوران روزانہ کے اوقات ایک گھنٹہ کم تصور کیے جائیں گے۔

ڈان کے مطابق محکمہ تعلیم کے نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ سابقہ سرکلر میں شامل دیگر تمام شرائط، ہدایات اور انتظامی تقاضے بدستور برقرار رہیں گے۔ تمام تعلیمی اداروں کے سربراہان اور متعلقہ فیلڈ افسران کو نظرثانی شدہ اوقات پر مکمل اور سخت عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ موجودہ نوٹیفکیشن سرکاری اسکولوں سے متعلق ہے اور رپورٹ میں نجی اسکولوں کے یومیہ اوقات کے لیے اسی نوعیت کی نئی لازمی تبدیلی بیان نہیں کی گئی۔

صوبے میں اسکولوں کے ہفتہ وار شیڈول میں گزشتہ چند ماہ کے دوران متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ جولائی کے آخر میں سندھ حکومت نے ابتدا میں اپنے زیر انتظام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے لیے چھ روزہ ہفتے کا اعلان کیا تھا۔ ایک روز بعد محکمہ تعلیم نے وضاحت کی کہ نجی اسکول اپنے تدریسی اور کام کے دن اپنی سہولت اور شیڈول کے مطابق طے کر سکتے ہیں۔

بعد ازاں 5 اگست کو سندھ حکومت نے اسکولوں اور کالجوں کے لیے دوبارہ پانچ روزہ ورکنگ ویک بحال کر دیا، یوں جولائی کی تبدیلی واپس لے لی گئی۔ 9 ستمبر کا تازہ حکم ہفتے کے دنوں کی تعداد دوبارہ تبدیل نہیں کرتا بلکہ اسی پانچ روزہ نظام میں روزانہ کلاس کے وقت کو ایک گھنٹہ کم کرتا ہے۔

اس سے قبل مارچ میں صوبے کے اسکولوں میں بہار کی تعطیلات کی گئی تھیں جبکہ کالجوں اور جامعات نے کچھ عرصہ آن لائن کلاسز اختیار کی تھیں۔ یہ اقدامات اس وقت ایندھن بچت اور کفایت شعاری کی حکمت عملی کے ساتھ جوڑے گئے تھے، جو ایران میں جنگ کے معاشی اثرات کے تناظر میں اپنائی گئی۔ یکم اپریل سے کلاسز کی بحالی کے بعد ہفتہ اور اتوار تعطیل رکھنے کا اعلان بھی اسی پالیسی سلسلے کا حصہ تھا۔

تازہ سرکلر میں ایک گھنٹے کی کمی کی کوئی نئی مدتِ اختتام مقرر نہیں کی گئی، اس لیے اسکولوں اور والدین کے لیے عملی طور پر حکم ثانی تک یہی شیڈول قابل اطلاق ہوگا۔ آئندہ کسی تبدیلی کے لیے محکمہ تعلیم کا نیا نوٹیفکیشن بنیادی حوالہ ہوگا۔