وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبہ بھر میں اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ کلاس رومز تک لانے کے لیے وسیع داخلہ مہم شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکومت سندھ نے اس مقصد کے لیے ٹھٹھہ میں آزمائے گئے پائلٹ ماڈل کو بنیاد بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں محدود مدت میں نئے اور اسکول چھوڑنے والے بچوں کے داخلے میں پیش رفت رپورٹ کی گئی۔

ڈان کے مطابق ٹھٹھہ کے پانچ اپ گریڈ کیے گئے اسکولوں میں 21 سے 30 ستمبر کے صرف نو دنوں کے دوران 702 طلبہ کا داخلہ ہوا، جن میں 409 لڑکیاں شامل تھیں۔ ان میں 102 ایسے بچے بھی تھے جو پہلے اسکول سے باہر تھے یا تعلیم چھوڑ چکے تھے۔ وزیراعلیٰ نے اس تجربے کو صوبائی سطح پر توسیع دینے کی ہدایت کی تاکہ نئی تعلیمی عمارتیں صرف تعمیراتی منصوبے نہ رہیں بلکہ ان میں طلبہ اور تدریسی سرگرمی بھی یقینی بنائی جا سکے۔

مراد علی شاہ نے سندھ سیکنڈری ایجوکیشن امپروومنٹ پروجیکٹ کے تحت اپ گریڈ ہونے والے تمام اسکولوں کو 2 اپریل 2027 سے مکمل طور پر فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مقررہ تاریخ تک اساتذہ، طلبہ اور بنیادی تعلیمی سہولتوں کی موجودگی یقینی بنانا ہوگی۔ متعلقہ محکمہ تعلیم، ضلعی انتظامیہ اور دیگر شراکت داروں کو کمیونٹی سطح پر رابطہ بڑھانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

سندھ میں اسکول سے باہر بچوں کی بڑی تعداد طویل عرصے سے تعلیمی پالیسی کا اہم مسئلہ رہی ہے۔ نئی مہم میں صرف نئے داخلوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے ایسے بچوں کی نشاندہی بھی اہم ہوگی جو معاشی، سماجی یا فاصلے کی وجوہات سے تعلیم چھوڑ چکے ہیں۔ ٹھٹھہ کے پائلٹ نتائج حوصلہ افزا قرار دیے گئے ہیں، لیکن صوبہ بھر میں اسی رفتار اور معیار کو برقرار رکھنے کے لیے مستقل نگرانی درکار ہوگی۔

حکومت سندھ کے مطابق منصوبے کا مقصد تعلیمی انفراسٹرکچر کی بہتری کو حقیقی طالب علموں کی حاضری اور معیاری تعلیم سے جوڑنا ہے۔ اپریل 2027 کی ڈیڈ لائن اب متعلقہ اداروں کے لیے واضح انتظامی ہدف فراہم کرتی ہے، جبکہ صوبائی داخلہ مہم کی کامیابی کا اندازہ اسکول سے باہر بچوں کی واپسی، حاضری اور تعلیم جاری رکھنے کے اعداد و شمار سے ہوگا۔