سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کراچی کے علاقے چوکنڈی میں خصوصی سکیورٹی یونٹ کے نئے ہیڈکوارٹر اور سکیورٹی ٹریننگ اکیڈمی کے قیام کے منصوبے کی اصولی منظوری دے دی ہے۔ ڈان اور اے پی پی کی 30 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق منصوبے کی مجموعی تخمینی لاگت 9.497 ارب روپے ہے اور اسے جدید سکیورٹی، کمانڈو تربیت اور انسداد دہشت گردی کی ضروریات کے مطابق تیار کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

منصوبہ تقریباً 29.43 ایکڑ رقبے پر ایک مربوط سکیورٹی کیمپس کے طور پر بنایا جائے گا جہاں ایس ایس یو کے کمانڈ، تربیت، رہائش اور معاون سہولتوں کو ایک ہی مقام پر جمع کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ مجوزہ کیمپس میں 3,000 سے زیادہ مرد اور 300 خواتین اہلکاروں کے لیے سہولتیں رکھی جائیں گی۔ اس میں ہیڈکوارٹر عمارت، تدریسی اور انتظامی بلاکس، آڈیٹوریم، تحقیق و ترقی کی سہولتیں، لائبریری، کمپیوٹر لیبارٹریاں اور کلاس روم شامل ہوں گے۔

مجوزہ اکیڈمی میں انڈور اور آؤٹ ڈور فائرنگ رینجز، ٹیکٹیکل ٹریننگ کمپلیکس، سیمولیشن رومز، جنگی تربیت کے زون، کے نائن یونٹ کی تربیت، SWAT رکاوٹ کورس، کھیل اور فٹنس کی سہولتیں، رہائشی بلاکس اور افسران کی رہائش بھی شامل ہے۔ منصوبے میں سی سی ٹی وی کمانڈ سینٹر، کنٹرولڈ ایکسس، واچ ٹاورز اور بم مزاحم بیرونی دیواروں جیسی حفاظتی خصوصیات بھی تجویز کی گئی ہیں۔

مالی خاکے کے مطابق پہلے مرحلے کی لاگت تقریباً 4.483 ارب روپے ہوگی اور اسے اگلے دو مالی سالوں میں مکمل کرنے کی تجویز ہے۔ محکمہ داخلہ نے ترجیحی کام شروع کرنے کے لیے 50 کروڑ روپے کی ابتدائی ری اپروپری ایشن تجویز کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ خزانہ، منصوبہ بندی و ترقی، محکمہ داخلہ اور پولیس کو تکنیکی اور مالی جانچ جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی تاکہ پہلے مرحلے کا کام موجودہ مالی سال میں شروع کیا جا سکے۔

حکومت سندھ کا مؤقف ہے کہ صوبے کے موجودہ پولیس تربیتی مراکز نئی نوعیت کی سکیورٹی ضروریات، شہری جنگی تربیت، جدید سیمولیشن اور خصوصی آپریشنز کی تیاری کے لیے ناکافی ہو چکے ہیں۔ تاہم اصولی منظوری حتمی تعمیراتی معاہدہ یا مکمل فنڈنگ جاری ہونے کے مترادف نہیں؛ منصوبے کو متعلقہ سرکاری فورمز، تکنیکی منظوری اور مالی طریقہ کار سے گزرنا ہوگا۔

اگر منصوبہ طے شدہ شکل میں آگے بڑھتا ہے تو ایس ایس یو کی تربیتی صلاحیت، خواتین اہلکاروں کے لیے سہولتیں اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی مشقوں کی گنجائش ایک ہی کیمپس میں دستیاب ہوگی۔ آئندہ مرحلوں میں لاگت، ٹینڈر، تعمیراتی مدت اور پیش رفت کا تعین سرکاری منظوریوں اور فنڈز کے اجرا سے ہوگا۔