اسلام آباد: سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن 30 اکتوبر کو پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے۔ دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر ہو رہا ہے اور اس دوران دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور دیگر شعبوں میں تعلقات کا جائزہ لیا جائے گا۔

دفتر خارجہ نے دورے کو اس لیے بھی اہم قرار دیا ہے کہ 2026 پاکستان اور سنگاپور کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 60 ویں سالگرہ کا سال ہے، جبکہ سنگاپور 2027 میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کی چیئرمین شپ سنبھالنے والا ہے۔ اسلام آباد اور سنگاپور کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات موجود ہیں اور دونوں حکومتیں شراکت داری کو مزید متنوع بنانے کی خواہش ظاہر کرتی رہی ہیں۔

اعلان کے مطابق اسحاق ڈار اور ڈاکٹر بالاکرشنن باقاعدہ دوطرفہ مذاکرات کریں گے جن میں پاکستان سنگاپور تعلقات کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی حالات زیر بحث آئیں گے۔ سنگاپور کے وزیر خارجہ پاکستان کی قیادت سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ دفتر خارجہ نے فی الحال ملاقاتوں کی مکمل فہرست یا کسی ممکنہ مشترکہ اعلامیے کی تفصیل جاری نہیں کی۔

دورے کے دوران پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور سنگاپور سول ڈیفنس فورس کے درمیان آفات سے نمٹنے کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ بھی متوقع ہے۔ یہ پہلو دونوں ملکوں کے تعلقات میں عملی اور ادارہ جاتی تعاون بڑھانے کی کوشش کا حصہ ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب موسمی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کئی ممالک کی قومی ترجیحات میں شامل ہے۔

پاکستان اور سنگاپور کے سفارتی رابطوں میں حالیہ مہینوں کے دوران بھی تسلسل رہا ہے۔ مئی میں اسحاق ڈار نے اپنے سنگاپوری ہم منصب سے رابطہ کرکے امریکا کی جانب سے ضبط کیے گئے جہازوں پر موجود پاکستانی اور ایرانی شہریوں کی فلاح اور وطن واپسی کے معاملے میں معاونت کی درخواست کی تھی۔ موجودہ دورہ اس رابطے سے الگ ایک باقاعدہ سرکاری سفارتی مصروفیت ہے اور اس میں تعلقات کے وسیع تر ایجنڈے پر گفتگو طے ہے۔ دورے کے بعد کسی نئے معاہدے یا پالیسی نتیجے کا تعین دونوں حکومتوں کے سرکاری اعلانات سے ہوگا۔