اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں، خصوصاً برآمدی ایس ایم ایز، کے لیے طویل مدتی فنانسنگ تک رسائی آسان بنانے کے لیے 80 فیصد برآمد کی شرط ختم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم نے یہ ہدایات 5 نومبر کو برآمدی ایس ایم ایز کی سہولت سے متعلق ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔
وزیراعظم آفس کی جاری کردہ معلومات کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے کاروبار کی ترقی کے لیے حکومتی سرپرستی اور ضروری سہولتیں یقینی بنائی جائیں۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ ایس ایم ایز اور برآمد کنندگان کے لیے رعایتی فنانسنگ اسکیم پر عمل درآمد میں کسی بینک کو انحراف کی اجازت نہ دی جائے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ بہتر قرض رسائی سے کاروباری صلاحیت، مہارت اور برآمدی سرگرمی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں تقریباً 17 ہزار ایس ایم ایز برآمدی سرگرمیوں سے منسلک ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے یکم نومبر کو ایس ایم ای شعبے کے لیے قرضوں تک آسان رسائی کی غرض سے ایک پورٹل شروع کیا، جس پر اجلاس تک 10 ہزار سے زیادہ درخواستیں موصول ہو چکی تھیں۔ حکام کے مطابق ایس ایم ایز اور نئے برآمد کنندگان کے لیے ایکسپورٹ فنانس اسکیم میں 300 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ رواں سال طویل مدتی فنانسنگ سہولت کے لیے 350 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
وزیراعظم نے برآمد کنندگان کے لیے accreditation standards، لیبارٹری سہولتوں اور دیگر ضابطہ جاتی طریقہ کار بہتر بنانے کی ہدایت بھی کی۔ اجلاس میں جدید لیبارٹریوں کے قیام اور برآمد کنندگان کو جانچ و تصدیق کی خدمات زیادہ آسانی سے فراہم کرنے پر زور دیا گیا۔ حالیہ مشاورتی نشستوں میں ایس ایم ای نمائندوں نے ٹیکس، ریفنڈز، صوبائی محصولات، لاجسٹکس، ادائیگیوں اور فنانسنگ سے متعلق مسائل اٹھائے تھے۔
اجلاس میں افریقی ممالک کے لیے پاکستانی برآمدات بڑھانے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ نئی ہدایات پالیسی سطح کے فیصلے ہیں؛ ان کے عملی اثرات کا انحصار متعلقہ قواعد میں تبدیلی، بینکوں کے نفاذ اور کاروباری اداروں کو حقیقی قرض فراہمی پر ہوگا۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، متعدد وفاقی وزرا، اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد اور دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے۔
