کراچی: صومالی قزاقوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 سے تعلق رکھنے والے چار زخمی پاکستانی ملاح پانچ ماہ سے زائد عرصے کی آزمائش کے بعد کراچی پہنچ گئے، جبکہ واقعے میں جان گنوانے والے تین پاکستانی ملاحوں کی میتیں بھی وطن منتقل کر دی گئیں۔ ڈان کے مطابق زخمی واپس آنے والوں میں امین بن شمس، عثمان غنی، یاسر خان اور عقیل خان شامل ہیں، جبکہ رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری جانبر نہ ہو سکے۔

اہل خانہ اتوار کو کراچی ایئرپورٹ پر اپنے پیاروں کے انتظار میں موجود تھے۔ جاں بحق ملاحوں کے رشتہ دار پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے ایکسپورٹ کارگو ٹرمینل پہنچے، جہاں ایدھی فاؤنڈیشن، چھیپا ویلفیئر ایسوسی ایشن اور سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ہیلتھ سروسز کی ایمبولینسیں بھی موجود تھیں۔ زخمی ملاحوں نے جناح ٹرمینل پر اپنے خاندانوں سے ملاقات کی، جبکہ میتیں کارگو ٹرمینل کے ذریعے اہل خانہ کے حوالے کی گئیں۔

ایم ٹی آنر 25 کو 21 اپریل کو صومالی قزاقوں نے اغوا کیا تھا۔ پاکستان ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق جہاز پر دس پاکستانی عملہ موجود تھا اور چار زخمی ملاحوں کی واپسی کے باوجود تین دیگر پاکستانی ملاح ابھی جہاز پر موجود ہیں، جن کی واپسی کمپنیوں کی کلیئرنس سے مشروط بتائی گئی ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق جہاز کو ستمبر کے آخر میں صومالیہ کے نیم خودمختار خطے پنٹ لینڈ کی سکیورٹی فورسز نے بازیاب کرایا تھا۔

متاثرہ خاندانوں نے کئی ماہ تک اپنے عزیزوں کی سلامتی کے بارے میں شدید بے یقینی کا سامنا کیا۔ ڈان سے گفتگو میں بعض اہل خانہ نے حکومت کے ردعمل اور رابطے کے طریقہ کار پر تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے طویل عرصے تک مدد کے لیے مختلف حکام سے رجوع کیا۔ یہ شکایات متاثرہ خاندانوں کا مؤقف ہیں۔ دوسری جانب سرکاری سطح پر زخمیوں اور میتوں کی وطن واپسی کے لیے سفارتی اور انتظامی رابطوں کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔

سندھ کے گورنر سید نہال ہاشمی سمیت صوبائی سیاسی شخصیات ایئرپورٹ پہنچیں اور بعد میں گورنر نے منوڑہ میں رفیع اللہ خان کی نماز جنازہ میں بھی شرکت کی۔ واقعہ سمندری عملے کی سلامتی، بحری قزاقی کے خطرات اور بیرون ملک بحران میں پھنسے پاکستانی شہریوں کے لیے قونصلر معاونت کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔ واپس آنے والے زخمی ملاحوں کی طبی نگہداشت جاری ہے، جبکہ باقی پاکستانی عملے کی محفوظ وطن واپسی کا مرحلہ ابھی مکمل ہونا باقی ہے۔