جوہانسبرگ: جنوبی افریقہ کی گاؤتنگ ہائی کورٹ نے ملک کے قانونی شعبے کے لیے متعارف کردہ سیاہ فام معاشی بااختیاری کے خصوصی ضابطے کی حکومتی منظوری کالعدم قرار دے دی ہے۔ روئٹرز کی آٹھ اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے کہا کہ وزیر تجارت پارکس تاؤ نے متعلقہ اختیارات استعمال کرتے ہوئے اس ضابطے کی آزادانہ جانچ اور جواز پر مناسب غور نہیں کیا۔ عدالت کا فیصلہ ضابطے کی منظوری کے طریقہ کار سے متعلق ہے، نہ کہ اس کے مجموعی آئینی مقاصد کی حتمی نفی۔
یہ ضابطہ قانونی پیشے میں ملکیت، انتظام اور خریداری کے حوالے سے مخصوص اہداف متعین کرتا تھا۔ مثال کے طور پر بڑی وکلا فرموں کے لیے پانچ برس کے اندر سیاہ فام افراد کی کم از کم 50 فیصد ملکیت کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جس میں سیاہ فام خواتین کے لیے 25 فیصد حصے کی بات بھی شامل تھی۔ حکومت کا مقصد تاریخی نسلی ناہمواریوں کے اثرات کم کرنا اور بااثر قانونی اداروں کی اعلیٰ سطح پر نمائندگی بڑھانا تھا۔
چار بڑی تجارتی لا فرموں ڈینیز ریٹز، باؤمینز، ویبر وینٹزل اور ورکس مین کے ساتھ ٹریڈ یونین سولیڈیریٹی نے اس ضابطے کو چیلنج کیا تھا۔ یونین کے سربراہ ڈرک ہرمن نے فیصلے کو حکومت کی نسلی پالیسی پر بڑی کامیابی قرار دیا۔ روئٹرز کے مطابق وزیر تجارت کے ترجمان سے فیصلے پر تبصرہ طلب کیا گیا، لیکن خبر کی اشاعت کے وقت فوری جواب دستیاب نہیں تھا۔
عدالت نے واضح کیا کہ اس کے سامنے سوال یہ تھا کہ وزیر تجارت نے ضابطے کو منظور کرتے وقت اس کے عام بااختیاری قواعد سے اختلافات کا جائزہ خود لیا یا نہیں۔ عدالت کے مطابق وزیر کے لیے ضروری تھا کہ وہ ضابطے کی انفرادی خصوصیات اور انحرافات کے جواز کا آزادانہ جائزہ لیتے۔ اسی بنیاد پر 2024 میں دی گئی منظوری ختم کرکے معاملہ دوبارہ وزیر کو غور کے لیے بھیج دیا گیا۔
ضابطے کے حامی کہتے ہیں کہ قانونی پیشے میں ابتدائی سطح پر نسلی تنوع بڑھنے کے باوجود سینئر عہدوں، ملکیتی حصوں اور زیادہ قدر والے کام میں سیاہ فام وکلا کی نمائندگی اب بھی ناکافی ہے۔ دوسری طرف ناقدین ان ضوابط کے قانونی جواز اور طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں ان دونوں وسیع سیاسی و سماجی مؤقفوں میں سے کسی کی مجموعی توثیق نہیں کی۔
فیصلے کے بعد ضابطے کی آئندہ حیثیت وزیر تجارت کے نئے جائزے اور ممکنہ قانونی اقدامات پر منحصر ہے۔ اسے جنوبی افریقہ کے تمام مثبت امتیازی اقدامات کے خاتمے یا نسلی مساوات سے متعلق وسیع قانون سازی کے کالعدم ہونے کے مترادف قرار دینا درست نہیں۔

