اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے قرض اور دیگر فنانسنگ تک رسائی آسان بنانے کی غرض سے SMEConnect کے نام سے ایک مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف کرا دیا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق یہ نظام ایس ایم ای درخواست گزاروں، بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کے درمیان درخواست کے عمل کو ایک جگہ جمع کرے گا اور درخواست کی پیش رفت کو زیادہ شفاف بنانے میں مدد دے گا۔

اسٹیٹ بینک نے اعلان کیا ہے کہ یکم نومبر 2026 سے ایس ایم ای فنانسنگ کی تمام نئی درخواستیں خصوصی طور پر SMEConnect کے ذریعے وصول کی جائیں گی۔ جو کاروباری افراد کسی بینک یا ڈی ایف آئی کی برانچ میں جائیں گے یا ان کی ویب سائٹ کے ذریعے فنانسنگ حاصل کرنا چاہیں گے، انہیں اس مرکزی پلیٹ فارم کی طرف رہنمائی کی جائے گی۔ بینکوں اور ڈی ایف آئیز کو اپنی ویب سائٹس پر SMEConnect کا لنک نمایاں طور پر دکھانے اور متعلقہ عملے کو اس نظام کے استعمال سے مکمل طور پر آگاہ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

پلیٹ فارم کا ایک اہم حصہ ریئل ٹائم ٹریکنگ ہے۔ درخواست گزار اپنی درخواست کی حیثیت دیکھ سکیں گے، جبکہ مسترد ہونے کی صورت میں وجہ بھی نظام میں دستیاب ہوگی۔ اسٹیٹ بینک کے لیے تیار کیا گیا لائیو ڈیش بورڈ درخواستوں کی وصولی، پراسیسنگ، منظوری، رقم کے اجرا اور مسترد ہونے کے اعداد و شمار بینک اور صنعت دونوں سطحوں پر دکھائے گا۔ اس طرح مرکزی بینک کو یہ دیکھنے میں مدد ملے گی کہ مختلف مالیاتی ادارے ایس ایم ای فنانسنگ کی درخواستوں پر کس رفتار اور نتیجے کے ساتھ کارروائی کر رہے ہیں۔

پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے کاروبار روزگار، پیداوار اور مقامی تجارت کا اہم حصہ ہیں، لیکن انہیں رسمی بینکاری نظام سے قرض حاصل کرنے میں طویل عرصے سے مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ مالیاتی ادارے نسبتاً زیادہ کریڈٹ رسک، دستاویزی تقاضوں اور چھوٹے کاروباروں کے محدود مالی ریکارڈ کی وجہ سے اس شعبے کو قرض دینے میں محتاط رہے ہیں۔ اسی دوران بینکوں کے لیے سرکاری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری نسبتاً کم خطرے کا متبادل رہی ہے۔

مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ نیا ڈیجیٹل نظام مالی شمولیت، کاروباری سرگرمی اور ایس ایم ای فنانسنگ کے ماحول کو مضبوط کرنے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ درخواست دینے والوں کی رہنمائی کے لیے پلیٹ فارم پر تربیتی ویڈیو بھی فراہم کی گئی ہے۔

SMEConnect خود قرض کی منظوری کی ضمانت نہیں دیتا؛ قرض دینے کا فیصلہ متعلقہ بینک یا مالیاتی ادارہ اپنی کریڈٹ پالیسی اور درخواست گزار کی اہلیت کے مطابق کرے گا۔ تاہم مرکزی نظام سے درخواست کے طریقہ کار، نگرانی اور رد یا منظوری کے ریکارڈ میں زیادہ یکسانیت آنے کی توقع ہے، جس سے پالیسی سازوں کو ایس ایم ای فنانسنگ میں موجود رکاوٹوں کی نشاندہی کے لیے بہتر ڈیٹا دستیاب ہو سکتا ہے۔