اسلام آباد: سرکاری اداروں سے متعلق کابینہ کمیٹی نے اسٹریٹجک ڈیجیٹل والٹ کمپنی کے بورڈ میں چار آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری کی سمری منظور کر لی ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق یہ کمپنی پاکستان کے خودمختار ورچوئل اثاثوں کے انتظام، تحفظ اور نگرانی کے مقصد سے قائم کی گئی ہے۔ سمری فنانس ڈویژن نے پیش کی تھی۔

کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی صدارت میں فنانس ڈویژن میں ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اسٹریٹجک ڈیجیٹل والٹ کمپنی کے بورڈ کی تشکیل سے متعلق فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت ڈیجیٹل اور ورچوئل اثاثوں کے لیے ادارہ جاتی ڈھانچہ تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

سرکاری معلومات میں چار آزاد ڈائریکٹرز کی منظوری کی تصدیق کی گئی ہے، تاہم دستیاب بیان میں کمپنی کے زیر انتظام اثاثوں کی مالیت، عملی آپریشنز کے آغاز یا مخصوص ورچوئل اثاثوں کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔ اس لیے اس فیصلے کو بورڈ اور گورننس کے ڈھانچے سے متعلق پیش رفت کے طور پر دیکھا جائے گا، نہ کہ کسی نئی سرمایہ کاری یا ڈیجیٹل اثاثہ لین دین کی تصدیق کے طور پر۔

اسی اجلاس میں کمیٹی نے پاکستان اسٹیٹ آئل کے بورڈ آف مینجمنٹ کے لیے ایک خاتون آزاد ڈائریکٹر اور ایک مزید آزاد رکن کی نامزدگی بھی منظور کی۔ یہ عمل سابق بورڈ کی قانونی مدت ختم ہونے کے بعد اس کی ازسرنو تشکیل کا حصہ بتایا گیا۔ علاوہ ازیں وزارت تجارت کی جانب سے پاکستان فارما ایکسپورٹ پروموشن کونسل کو کمپنیز ایکٹ 2017 کی دفعہ 42 کے تحت قائم کرنے کی تجویز پر غور کیا گیا، مگر مزید مشاورت کے لیے اسے مؤخر کر دیا گیا۔

کمیٹی نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کی ایک سمری پر کلین انوائرنمنٹ فنڈ کمپنی کو فعال کرنے کے لیے دو سرکاری اور تین آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری بھی منظور کی۔ مجموعی طور پر اجلاس کے فیصلے مختلف سرکاری کمپنیوں اور بورڈز کی گورننس سے متعلق تھے۔ اسٹریٹجک ڈیجیٹل والٹ کمپنی کے حوالے سے آئندہ اہم مرحلہ یہ ہوگا کہ منظور شدہ بورڈ کمپنی کے انتظامی قواعد، اثاثوں کے تحفظ، احتساب اور عملی کام کے لیے کس نوعیت کا فریم ورک اپناتا ہے۔