واشنگٹن: مائیکروسافٹ نے دنیا بھر میں تقریباً 60 ہزار اہل ملازمین کے لیے رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش متعارف کرائی ہے، جسے کمپنی کے اخراجات میں نظم لانے اور مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑے سرمایہ جاتی منصوبوں کے پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق یہ تعداد کمپنی کی عالمی افرادی قوت کے ایک چوتھائی سے زیادہ کے برابر ہے، تاہم پیشکش تمام ملازمین کے لیے نہیں بلکہ مخصوص ٹیموں اور سطحوں کے کارکنوں تک محدود ہے۔

رپورٹ کے مطابق کینیڈا، بھارت، برطانیہ اور امریکا میں شریک ٹیموں کے لیول 70 یا اس سے کم درجے کے اہل ملازمین اس پروگرام میں شامل ہو سکتے ہیں۔ متاثرہ شعبوں میں اے آئی تجربات، کوپائلٹ، فنانس، انسانی وسائل، ایکس باکس اور ونڈوز اینڈ ڈیوائسز کی بعض ٹیمیں شامل ہیں، جبکہ مارکیٹنگ، کمرشل بزنس اور سکیورٹی کو اس پیشکش سے الگ رکھا گیا ہے۔ کمپنی نے پروگرام کو وقت کی حد کے ساتھ ایک اختیاری راستہ قرار دیا ہے، یعنی اسے جبری برطرفی کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔

مائیکروسافٹ کے مطابق جون 2026 کے اختتام پر اس کے کل وقتی ملازمین کی تعداد تقریباً 223 ہزار تھی۔ کمپنی کیلنڈر سال 2026 میں تقریباً 175 ارب ڈالر کے سرمایہ جاتی اخراجات کی پیش گوئی کر چکی ہے، جن کا بڑا حصہ اے آئی ڈیٹا سینٹرز، کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر اور چپس سے متعلق ضروریات پر خرچ ہونا ہے۔ بڑھتے ہوئے اے آئی اخراجات نے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر یہ دباؤ بڑھایا ہے کہ وہ روایتی آپریشنز اور افرادی قوت کے اخراجات کا دوبارہ جائزہ لیں۔

یہ اقدام مائیکروسافٹ کی جانب سے رواں سال کیے گئے دیگر افرادی قوت کے اقدامات کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس سے پہلے امریکا میں تقریباً نو ہزار ملازمین کے لیے رضاکارانہ پروگرام اور جولائی میں ہزاروں ملازمتوں میں کمی کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ تازہ پیشکش کے عملی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اہل ملازمین میں سے کتنے افراد اسے قبول کرتے ہیں۔ کمپنی نے اسے ٹیموں کو بدلتی کاروباری ضروریات کے مطابق ڈھالنے کا ذریعہ قرار دیا ہے، جبکہ سرمایہ کار آئندہ مالی نتائج میں اے آئی اخراجات اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کے توازن پر بھی نظر رکھیں گے۔