اسلام آباد: پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کی تازہ سیٹلائٹ مانیٹرنگ کے مطابق ملک میں غیر منجمد برفانی جھیلوں کی تعداد دو ماہ سے بھی کم عرصے میں 40 سے بڑھ کر 105 ہوگئی ہے۔ ادارے کی مانیٹرنگ رپورٹ میں بتایا گیا کہ تازہ جائزہ وقت کے مختلف ادوار میں حاصل کی گئی سیٹلائٹ تصاویر پر مبنی ہے اور اس میں استعمال ہونے والی تازہ ترین تصویر 5 اگست 2026 کو حاصل کی گئی تھی۔

سپارکو نے ممکنہ طور پر خطرناک برفانی جھیلوں کی نگرانی کے لیے آپٹیکل سیٹلائٹ تصاویر استعمال کیں، جن کی مدد سے جھیلوں کے سطحی رقبے اور ان کے منجمد یا غیر منجمد ہونے کی کیفیت کا اندازہ لگایا گیا۔ ادارے کے مطابق گرمیوں میں درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ جھیلوں کے پگھلنے اور کھلنے میں اضافہ متوقع تھا، تاہم تازہ جائزے میں چند جھیلوں کا رقبہ ان کی پہلے سے ریکارڈ شدہ زیادہ سے زیادہ حدود سے بھی آگے بڑھا ہوا نظر آیا۔

سپارکو کے سرکاری مانیٹرنگ پورٹل کے مطابق صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں، گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور واپڈا کے گلیشیئر مانیٹرنگ اینڈ ریسرچ سینٹر سمیت متعلقہ اداروں کی جانب سے 131 ممکنہ طور پر خطرناک برفانی جھیلوں کے مقامات فراہم کیے گئے ہیں۔ ان مقامات کی سیٹلائٹ نگرانی کا مقصد اچانک برفانی جھیل پھٹنے، یعنی گلیشیئل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (GLOF)، کے خطرات کے لیے بروقت انتباہ اور تیاری میں مدد دینا ہے۔

رپورٹس کے مطابق 2 جولائی کی سابقہ جانچ میں 40 جھیلیں غیر منجمد پائی گئی تھیں۔ اگست کے جائزے میں یہ تعداد 105 تک پہنچ گئی۔ سپارکو نے یہ بھی واضح کیا کہ جولائی کے بعد مسلسل بادلوں کی وجہ سے کئی علاقوں کی صاف سیٹلائٹ تصاویر محدود رہیں، اس لیے بعض جھیلوں کے رقبے میں تبدیلی کی درست مقدار کا تعین مشکل تھا۔

ادارے نے متعلقہ حکام کو خاص طور پر ان وادیوں میں تیاری برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے جو ممکنہ طور پر خطرناک برفانی جھیلوں کے زیریں علاقوں میں واقع ہیں۔ سپارکو کا کہنا ہے کہ پگھلاؤ کے موسم کے دوران سیٹلائٹ نگرانی جاری رکھی جائے گی تاکہ کسی جھیل کے تیزی سے پھیلنے یا دیگر خطرے کی علامات کی صورت میں متعلقہ اداروں تک معلومات پہنچائی جا سکیں۔ موجودہ اعداد و شمار خطرے کے حتمی وقوع کی پیش گوئی نہیں کرتے، بلکہ ایسے مقامات کی نشاندہی اور نگرانی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں جہاں پانی کے ذخیرے اور قدرتی مورین بند کی عدم استحکام سے گلوف کا امکان بڑھ سکتا ہے۔