اسلام آباد: سپریم کورٹ نے تین سول متفرق درخواستیں مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کسی عدالتی رعایت یا التوا کے ساتھ واضح شرط منسلک ہو تو اس شرط کی پابندی ایک قطعی ذمہ داری بن جاتی ہے اور عدم تعمیل کی صورت میں پہلے سے بیان کردہ نتیجہ لاگو ہو سکتا ہے۔ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تین صفحات پر مشتمل حکم میں عدالتی احکامات کی قطعیت، نظم اور تقدس پر زور دیا۔

جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس ملک شہزاد احمد خان شامل تھے۔ بینچ کے سامنے سپریم کورٹ رولز 1980 کے متعلقہ قواعد کے تحت ایسی درخواستیں تھیں جن میں 12 ستمبر 2024 کو عدم پیروی کی بنیاد پر خارج ہونے والی سول نظرثانی درخواستوں کو بحال کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

عدالتی حکم کے مطابق 4 مارچ 2024 کو درخواست گزاروں کے وکیل کی طبی بنیادوں پر التوا کی درخواست منظور کی گئی تھی، لیکن اس رعایت کے ساتھ واضح شرط عائد کی گئی کہ اگلی سماعت پر وکیل کسی بھی وجہ سے پیش نہ ہو سکے تو متبادل انتظام کیا جائے، بصورت دیگر معاملہ عدم پیروی پر خارج کیا جا سکتا ہے۔ 12 ستمبر کو مقدمات دوبارہ سماعت کے لیے آئے تو متبادل انتظام کے بجائے ایک اور التوا مانگا گیا۔

ایک درخواست میں وکیل نے فوڈ پوائزننگ کے باعث معدے کی بیماری جبکہ دیگر میں حلق کی سوزش اور ادویات کے اثرات کو وجہ بتایا۔ عدالت نے کہا کہ پہلے حکم میں متبادل انتظام کی واضح شرط موجود تھی اور اس کی عدم تعمیل سے مشروط حکم کی خلاف ورزی مکمل ہو گئی۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ایک معمر خاتون فریق ذاتی طور پر اپنے حقوق کے دفاع کے لیے عدالت میں موجود تھیں، جبکہ درخواست گزار پہلے سے دی گئی ہدایت کے مطابق متبادل وکیل کا انتظام نہیں کر سکے۔

جسٹس پنہور نے قرار دیا کہ مشروط احکامات عدالتوں کو انصاف کے تقاضوں کے ساتھ نرمی اور منصفانہ سہولت میں توازن قائم کرنے دیتے ہیں۔ اگر واضح شرط پوری نہ ہونے کے باوجود بعد میں اصل حکم واپس لے لیا جائے تو پہلے دی گئی مشروط ہدایت بے اثر ہو جائے گی۔ عدالت نے اسی بنیاد پر بحالی کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ فیصلہ عمومی طور پر یہ اصول واضح کرتا ہے کہ عدالتی التوا یا رعایت کو خودکار حق نہیں سمجھا جا سکتا اور اس کے ساتھ عائد واضح شرائط کی عملی پابندی ضروری ہے۔