اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو 2023 میں یونان کے قریب پیش آنے والے مہلک کشتی سانحے کے تناظر میں اپنے 40 اہلکاروں کے کردار کی ازسرنو تحقیقات کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے وفاقی سروس ٹربیونل کی جانب سے ان اہلکاروں کی ملازمت پر بحالی کا فیصلہ برقرار رکھا، تاہم واضح کیا کہ ایف آئی اے قانونی تقاضوں اور مناسب طریقۂ کار کی پابندی کرتے ہوئے نئی انکوائری کر سکتا ہے۔

ڈان کے مطابق تین رکنی بینچ نے ایف آئی اے کی اپیلوں پر سماعت کی۔ ادارے کا مؤقف تھا کہ سروس ٹربیونل نے اہلکاروں کی برطرفی کے احکامات بنیادی طور پر طریقۂ کار کی خامیوں کی وجہ سے ختم کیے تھے، نہ کہ اس بنیاد پر کہ ان کے خلاف تمام الزامات حقائق کے اعتبار سے غلط ثابت ہوگئے تھے۔ عدالت نے اسی پس منظر میں نئی تحقیقات کا راستہ کھلا رکھا ہے۔

یہ معاملہ جون 2023 میں یونان کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے سانحے سے متعلق ہے، جس میں بڑی تعداد میں پاکستانی شہری بھی سوار تھے۔ حادثے کے بعد پاکستان میں انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس، غیر قانونی سفری راستوں اور سرحدی و امیگریشن نگرانی کے نظام پر شدید سوالات اٹھے تھے۔ حکومت نے متعلقہ اداروں میں ذمہ داری کے تعین اور ممکنہ غفلت یا ملی بھگت کی جانچ کے لیے کارروائیاں شروع کی تھیں۔

متعلقہ ایف آئی اے اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کے نتیجے میں انہیں ملازمت سے برطرف کیا گیا تھا، لیکن انہوں نے فیصلے کو وفاقی سروس ٹربیونل میں چیلنج کیا۔ ٹربیونل نے کارروائی میں قانونی اور انتظامی تقاضوں کی عدم تکمیل کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کی بحالی کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ نے بحالی کے اس حصے کو برقرار رکھا ہے، مگر ادارے کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ نئے سرے سے قواعد کے مطابق انکوائری مکمل کرے۔

عدالت کا فیصلہ کسی اہلکار کو سانحے کا ذمہ دار قرار دینے کا حتمی عدالتی نتیجہ نہیں ہے۔ نئی تحقیقات میں اگر کسی فرد کے خلاف شواہد سامنے آتے ہیں تو ایف آئی اے کو محکمانہ کارروائی کے دوران نوٹس، سماعت اور دفاع کے مواقع سمیت قانونی تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔ اسی طرح بحالی کو بھی الزامات سے قطعی بریت کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔

یونان کشتی سانحے نے پاکستان میں انسانی اسمگلنگ کے خلاف نفاذِ قانون کی صلاحیت اور بیرون ملک غیر قانونی نقل مکانی روکنے کے نظام کو قومی توجہ کا مرکز بنایا تھا۔ سپریم کورٹ کے تازہ حکم کے بعد اب اہم مرحلہ یہ ہوگا کہ ایف آئی اے نئی تحقیقات کس دائرے میں کرتا ہے، کن اہلکاروں کے کردار کا دوبارہ جائزہ لیا جاتا ہے اور محکمانہ فیصلوں میں قانونی طریقۂ کار کی خامیوں کو کس طرح دور کیا جاتا ہے۔