پاکستان کی سپریم کورٹ نے جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اسلام آباد کے ایک نجی اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق تین رکنی بینچ نے یہ فیصلہ ان کی صحت اور طبی سہولتوں تک رسائی سے متعلق خدشات پر سماعت کے بعد سنایا۔
عدالتی حکم کے مطابق عمران خان کو آئندہ دنوں میں اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال لے جایا جائے گا، جہاں ایک میڈیکل بورڈ ان کا معائنہ کرے گا۔ رپورٹس کے مطابق اس بورڈ میں مختلف شعبوں کے ماہرین کے ساتھ ساتھ ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو بھی شامل کیا جائے گا۔
عدالت نے جیل حکام کو یہ ہدایت بھی دی کہ عمران خان کو ہر ہفتے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت دی جائے اور انہیں اپنے بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرنے کا موقع بھی فراہم کیا جائے۔ اس فیصلے کے بعد ان کی ہمشیرہ نورین نیازی کو منگل کے روز راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں داخلے کی اجازت دی گئی۔
رپورٹس کے مطابق جیل کے طبی ریکارڈ میں درج ہے کہ سابق وزیراعظم نے حالیہ عرصے میں بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ، دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی، سر درد اور بے چینی کی شکایت کی تھی، جس پر ایک معالج نے پیچیدگیوں کے خطرے کے پیشِ نظر دل سے متعلق مزید تحقیقات تجویز کی تھیں۔ یہی طبی ریکارڈ عدالت کے سامنے زیرِ غور آیا۔
واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز میں جیل میں ملاقاتوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ حکام کے مطابق یہ اقدام ان اطلاعات کے بعد کیا گیا تھا جن میں اُس جیل پر ممکنہ حملے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا جہاں انہیں رکھا گیا ہے۔ اس پابندی کے بعد سے ان کے اہلِ خانہ اور وکلا مسلسل رسائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
عمران خان 2023 سے مختلف مقدمات میں قید ہیں اور ان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف ان کی صحت کے حوالے سے وقتاً فوقتاً تشویش کا اظہار کرتی رہی ہے، جبکہ حکام ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں کہ انہیں طبی سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہیں۔ اس رپورٹ میں صرف عدالتی حکم اور خبر رساں اداروں کی مصدقہ اطلاعات شامل ہیں؛ فریقین کے باہمی الزامات کی الگ سے تصدیق درکار ہے۔ اردو ہیڈ لائنز ڈیسک اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔




