اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے عدالتی کارروائی کو مختلف شہروں سے ایک ساتھ جوڑنے کے لیے ویڈیو لنک اور مکمل ڈیجیٹل کیس فائلوں کا استعمال کرتے ہوئے متعدد مقدمات کی سماعت کی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اس انتظام کے تحت بینچ، وکلا اور فریقین مختلف شہروں میں موجود رہتے ہوئے ایک ہی کارروائی میں شریک ہوئے، جبکہ مقدمات کا ریکارڈ کاغذی فائلوں کی منتقلی کے بجائے ڈیجیٹل شکل میں عدالت کے سامنے دستیاب رہا۔

رپورٹ کے مطابق ایک کارروائی میں چیف جسٹس پاکستان نے اسلام آباد میں پرنسپل سیٹ سے بینچ کی سربراہی کی، جسٹس شکیل احمد پشاور برانچ رجسٹری سے شریک ہوئے اور ایک فریق کے وکیل نے منگورہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے دلائل دیے۔ اس طرح ایک ہی سماعت میں تین مختلف مقامات کو جوڑا گیا۔ اسی روز اسلام آباد میں بیٹھے دیگر بینچوں نے کوئٹہ، کراچی اور لاہور برانچ رجسٹریوں سے متعلق مقدمات بھی ویڈیو لنک کے ذریعے سنے۔

دستیاب تفصیلات کے مطابق جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کوئٹہ برانچ رجسٹری کے مقدمات، جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کراچی برانچ رجسٹری کے مقدمات اور جسٹس عائشہ اے ملک کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے لاہور برانچ رجسٹری کے معاملات سنے۔ وکلا اور متعلقہ فریق اپنے اپنے شہروں سے شریک ہوئے، جبکہ بینچوں نے اسلام آباد میں اپنا معمول کا عدالتی کام جاری رکھا۔

اس انتظام کی ایک اہم خصوصیت مکمل ڈیجیٹل کیس فائلوں کا استعمال تھا۔ اس سے برانچ رجسٹریوں سے کاغذی پیپر بکس اور فائلیں جسمانی طور پر منتقل کرنے کی ضرورت کم ہوئی اور عدالتی ریکارڈ بینچ کے سامنے الیکٹرانک طور پر دستیاب رہا۔ ویڈیو لنک اور ڈیجیٹل ریکارڈ کے امتزاج کا مقصد سماعتوں کے تسلسل، وقت کے بہتر استعمال اور وکلا و سائلین کے غیر ضروری سفر کو کم کرنا بتایا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کی جاری ڈیجیٹل اصلاحات میں کیس فائلوں کی ڈیجیٹائزیشن، بارکوڈ پر مبنی کیس ٹریکنگ، ای فائلنگ، عدالتی احکامات کی الیکٹرانک ترسیل، ڈیجیٹل ادائیگیوں، ویڈیو لنک سماعتوں اور ای آفس نظام جیسے اقدامات شامل ہیں۔ ان اصلاحات کا عملی اثر اس بات سے جانچا جائے گا کہ یہ سہولیات کتنے مقدمات اور رجسٹریوں میں مستقل طور پر استعمال ہوتی ہیں اور کیا ان سے کارروائی میں تاخیر، سفر اور انتظامی اخراجات میں واقعی کمی آتی ہے۔ موجودہ پیش رفت کم از کم یہ ظاہر کرتی ہے کہ عدالت نے مختلف شہروں کو ایک ہی عدالتی عمل میں جوڑنے کے لیے ڈیجیٹل نظام کو عملی سطح پر استعمال کیا ہے۔