اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ضمانت کے ایک مقدمے میں قرار دیا ہے کہ اگر دستیاب مواد کی بنیاد پر ملزم کی مبینہ شمولیت یا کردار کے بارے میں معقول شک پیدا ہوتا ہو تو اسے محض الزام کی بنیاد پر آزادی سے محروم رکھنا مناسب نہیں۔ عدالت نے اس اصول کو فوجداری انصاف میں ضمانت کے فیصلوں کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے استغاثہ کے طرزِ عمل پر بھی سوال اٹھایا۔

فیصلے میں جسٹس محمد علی مظہر نے مشاہدہ کیا کہ ضمانت کے مرحلے پر عدالت مقدمے کا مکمل ٹرائل نہیں کرتی بلکہ دستیاب ریکارڈ کا ابتدائی جائزہ لے کر یہ دیکھتی ہے کہ ملزم کو مسلسل حراست میں رکھنے کے لیے معقول بنیاد موجود ہے یا معاملہ مزید تحقیق کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر الزام اور دستیاب شواہد کے درمیان ایسی غیر یقینی ہو جو مزید جانچ کا تقاضا کرے تو قانون ضمانت کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔

عدالت نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ درخواست گزار کو پہلے ضمانت ملنے کے باوجود استغاثہ کے طرزِ عمل کے باعث رہائی میں رکاوٹ پیش آئی۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ فوجداری نظام میں سرکاری اداروں کی ذمہ داری صرف مقدمہ چلانا نہیں بلکہ عدالتی احکامات پر بروقت اور مؤثر عمل درآمد بھی ہے۔ کسی شخص کو قانونی جواز کے بغیر اضافی مدت تک حراست میں رکھنا بنیادی حقوق سے متعلق سنجیدہ سوال پیدا کرتا ہے۔

پاکستانی فوجداری قانون میں ضمانت کا فیصلہ الزام کی نوعیت، ممکنہ سزا، دستیاب شواہد، ملزم کے فرار یا شواہد پر اثرانداز ہونے کے خدشے اور مزید تحقیق کی ضرورت سمیت متعدد عوامل کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ عدالتیں بارہا یہ اصول بیان کرچکی ہیں کہ ضمانت کے مرحلے پر سزا یا بریت کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جاتا۔

سپریم کورٹ کا تازہ حکم ماتحت عدالتوں اور تفتیشی اداروں کے لیے اس نکتے کو دوبارہ نمایاں کرتا ہے کہ حراست کو سزا کے متبادل کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ جب مقدمے میں ملزم کے کردار کے بارے میں حقیقی اور معقول سوال موجود ہوں تو ان کا فیصلہ ٹرائل میں شواہد کی مکمل جانچ کے بعد ہونا چاہیے، جبکہ قبل از ٹرائل حراست کے لیے قانون میں مقررہ معیار الگ ہے۔

یہ فیصلہ کسی عمومی خودکار ضمانت کا اصول قائم نہیں کرتا؛ ہر مقدمہ اپنے حقائق اور ریکارڈ پر طے ہوگا۔ تاہم عدالت کی آبزرویشن اس بنیادی قانونی تصور کی توثیق کرتی ہے کہ شک، مزید تحقیق اور آزادی کے حق کو ضمانت کی درخواستوں میں سنجیدگی سے وزن دیا جانا ضروری ہے۔