اسلام آباد میں سپریم کورٹ نے ازدواجی تنازعات سے متعلق اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر میاں بیوی کے درمیان سنگین اور مسلسل شقاق ثابت ہو اور بامعنی مصالحتی کوششیں ناکام رہیں تو نکاح کو تحلیل کیا جا سکتا ہے، خواہ ظلم کا مخصوص قانونی الزام ثبوت کے مطلوبہ معیار پر ثابت نہ ہو۔ عدالت نے اس بنیاد کو مسلم میرجز ایکٹ 1939 کی دفعہ 2(ix) کے تحت قابل اطلاق قرار دیا۔
پانچ رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس شاہد وحید نے کی جبکہ جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب بھی بینچ میں شامل تھے۔ عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کے الگ الگ احکامات کے خلاف دو متعلقہ درخواستوں کی سماعت کی۔ دونوں مقدمات میں خواتین نے ظلم کی بنیاد پر نکاح کی تحلیل کے ساتھ نان و نفقہ، حق مہر اور جہیز سے متعلق دعوے کیے تھے۔
خاندانی عدالتوں نے ظلم ثابت نہ ہونے کے باوجود نکاح خلع کے ذریعے ختم کر دیا تھا اور خواتین کو حق مہر واپس کرنے کی ہدایت کی تھی۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ خلع خاتون کے رضاکارانہ انتخاب پر مبنی حق ہے، اس لیے عدالت اس کی واضح اور آزاد رضامندی کے بغیر ظلم یا کسی دوسری قانونی بنیاد پر دائر دعوے کو خلع میں تبدیل نہیں کر سکتی۔
فیصلے میں شقاق اور خلع کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے کہا گیا کہ شقاق ایک ایسی حقیقی، سنجیدہ اور مسلسل ازدواجی ٹوٹ پھوٹ ہے جس میں رشتہ اپنے بنیادی مقاصد پورے کرنے کے قابل نہ رہے اور مناسب مصالحتی کوششیں بھی ناکام ہو جائیں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ معمولی اختلاف، وقتی ناراضی، عدم مطابقت یا مختصر علیحدگی بذات خود شقاق ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔
سپریم کورٹ نے متعلقہ شادیوں کی تحلیل برقرار رکھی لیکن اس کی قانونی بنیاد خلع کے بجائے شقاق قرار دی۔ اس کے نتیجے میں محض خلع کی بنیاد پر حق مہر واپس کرنے یا چھوڑنے کی ہدایات ختم کر دی گئیں اور کہا گیا کہ مالی حقوق کا تعین متعلقہ قانون کے مطابق ہوگا۔
عدالت نے زور دیا کہ ازدواجی مقدمات میں کسی فریق کو ثبوت کے بغیر ظلم یا بدسلوکی کا مرتکب قرار نہیں دیا جانا چاہیے، اور نہ ہی ایسی شادی کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے پر مجبور کیا جائے جو سنجیدہ اور مسلسل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہو۔ فیصلے کا مرکزی اصول یہ ہے کہ عدالتیں نکاح کے خاتمے کی قانونی بنیاد، رضامندی اور مالی نتائج کو الگ الگ اور واضح طور پر جانچیں۔

