سپریم کورٹ نے سندھ میں قتل کے مقدمات کے اندراج میں تاخیر سے متعلق سماعت کے دوران آئی جی سندھ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے۔ ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور ڈی آئی جی سکھر کو بھی آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا اور وکلا کو مزید تیاری کی ہدایت کرتے ہوئے کارروائی 21 ستمبر تک ملتوی کردی۔

سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے سندھ پولیس کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھائے۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ زیر سماعت معاملے میں قتل کے دو دن بعد مقدمہ درج ہوا اور متعدد معاملات میں پولیس مقدمہ درج کرنے سے گریز کرتی ہے۔ جسٹس صلاح الدین پنہور نے سکھر اور لاڑکانہ کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔ یہ عدالتی ریمارکس ہیں؛ انہیں ابھی کسی مکمل تادیبی کارروائی، حتمی عدالتی نتیجے یا ہر مقدمے میں پولیس کی ذمہ داری کے حتمی تعین کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔

آئی جی سندھ اور دیگر حکام کی طلبی کا مقصد بظاہر عدالت کو تاخیر کی وجوہات، انتظامی طریقۂ کار اور متعلقہ علاقوں کی صورتحال پر براہ راست جواب فراہم کرنا ہے۔ دستیاب رپورٹ میں ابھی حکام کا تفصیلی جواب، کسی افسر کے خلاف حتمی حکم یا ادارہ جاتی اصلاحات کا مکمل خاکہ شامل نہیں۔ اگلی سماعت میں پیش ہونے والی وضاحت اور عدالتی حکم سے معاملے کا آئندہ رخ واضح ہوگا۔

قتل جیسے سنگین جرم میں ابتدائی رپورٹ کا بروقت اندراج شواہد کے تحفظ، ملزمان کی تلاش اور متاثرہ خاندان کو قانونی عمل تک رسائی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ تاخیر کی صورت میں جائے وقوعہ کے شواہد، گواہوں کے بیانات اور تفتیشی تسلسل متاثر ہونے کا خدشہ بڑھتا ہے۔ اسی لیے عدالت نے معاملے کو محض ایک مقامی شکایت تک محدود رکھنے کے بجائے صوبائی پولیس قیادت کی توجہ کے قابل سمجھا۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت اتنی ہے کہ اعلیٰ پولیس اور قانونی حکام کو طلب کیا گیا ہے، سماعت ملتوی ہوئی ہے اور کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ آئندہ رپورٹنگ میں عدالتی طلبی، سرکاری جواب، ممکنہ تحقیقات اور کسی ثابت شدہ خلاف ورزی کو الگ الگ بیان کرنا ضروری ہوگا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک