سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی جانب سے 2012 کے بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی کیس میں دو ایم کیو ایم کارکنوں کی بریت کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے جون میں عبدالرحمان عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کی سزائیں کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں شک کا فائدہ دے کر بری کیا تھا۔

بدھ کو جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سندھ حکومت کی درخواست پر سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس شکیل احمد بھی شامل تھے۔ سندھ کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل سلیم اختر نے صوبائی حکومت کی جانب سے دلائل پیش کیے۔

صوبائی حکومت نے جولائی میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ 10 جون کے فیصلے میں حقائق، حالات، اعترافی بیان اور مشترکہ ذمہ داری سے متعلق قانونی پہلوؤں میں غلطی ہوئی اور استغاثہ کے اہم گواہوں اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کو مناسب وزن نہیں دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے یہ مؤقف قبول نہیں کیا اور اپنے سابق فیصلے پر نظرثانی کی استدعا مسترد کر دی۔

عدالت نے 10 جون کے فیصلے میں ایم کیو ایم سے متعلق بعض ریمارکس حذف کرنے کے لیے دائر ایک الگ درخواست بھی مسترد کر دی۔ تفصیلی حکم بعد میں جاری ہونے کی توقع ہے۔

بلدیہ ٹاؤن کی علی انٹرپرائزز گارمنٹس فیکٹری میں 11 ستمبر 2012 کو آگ لگنے سے 260 سے زیادہ کارکن ہلاک ہوئے تھے۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ستمبر 2020 میں دونوں ملزمان کو سزائے موت سنائی تھی، جسے سندھ ہائی کورٹ نے 2023 میں برقرار رکھا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے جون 2026 میں سزائیں ختم کر دیں۔

جون کے فیصلے میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ فوجداری مقدمے میں الزام ثابت کرنا استغاثہ کی ذمہ داری ہے اور محض امکانات، عمومی الزامات یا غیر قابلِ اعتماد شہادت کسی شخص کو مجرم قرار دینے کے لیے کافی نہیں۔ تازہ حکم کا مطلب یہ ہے کہ سندھ حکومت کی نظرثانی کی درخواست اس مرحلے پر کامیاب نہیں ہوئی؛ تفصیلی وجوہات تحریری حکم سامنے آنے کے بعد مزید واضح ہوں گی۔