صوابی: ضلعی انتظامیہ نے طلبہ کے لیے خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کے باعث ضلع کے مختلف علاقوں میں تقریباً 120 اسکول سیل کر دیے ہیں۔ ڈان کے مطابق کارروائی چاروں تحصیلوں میں جاری معائنہ مہم کے دوران کی گئی، جہاں متعدد عمارتوں کی دیواروں اور کمروں میں دراڑیں اور دیگر ساختی مسائل سامنے آئے۔
ڈپٹی کمشنر نصراللہ خان کے مطابق ضلع میں سرکاری اور نجی شعبے کے تقریباً دو ہزار اسکول موجود ہیں، جن میں سے 1,224 کا معائنہ مکمل کیا جا چکا ہے۔ ان میں تقریباً 120 اداروں کی عمارتوں کو طلبہ کے لیے غیر محفوظ قرار دے کر بند کیا گیا، جبکہ باقی اسکولوں کی جانچ بھی جاری رکھی جائے گی۔
یہ معائنہ مہم پشاور میں ایک نجی اسکول کی عمارت گرنے کے مہلک واقعے کے بعد شروع کی گئی، جس میں بچوں اور ایک خاتون استاد سمیت متعدد افراد جان سے گئے تھے۔ صوابی انتظامیہ نے کہا ہے کہ طلبہ کی حفاظت پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور عمارتوں کی حالت کا فیصلہ موقع پر تکنیکی و انتظامی جائزے کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق سیل کیے گئے سرکاری اسکولوں کے طلبہ کو قریبی تعلیمی اداروں میں منتقل کرنے کے انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ان کی تعلیم متاثر نہ ہو۔ نجی اسکول انتظامیہ کو متبادل محفوظ عمارتیں کرائے پر لینے اور اپنی اصل عمارتوں کی مرمت کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مرمت کے بعد ضلعی انتظامیہ کی کلیئرنس ملنے پر ہی ان عمارتوں میں دوبارہ تدریسی سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت ہوگی۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صوابی میں مجموعی طور پر تقریباً 289,180 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ جاری مہم کا مقصد کسی ایک شعبے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ سرکاری اور نجی دونوں اداروں میں عمارتوں کی حفاظت یقینی بنانا ہے۔ باقی اسکولوں کے معائنے کے بعد سیل کیے جانے والے اداروں کی تعداد تبدیل ہو سکتی ہے، اس لیے موجودہ تقریباً 120 کا عدد جاری کارروائی کی موجودہ صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
