ڈیرہ اسماعیل خان: خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک کی ضم شدہ تحصیل جنڈولہ میں ایک ہسپتال کے داخلی دروازے پر تعینات پولیس اہلکاروں پر حملے میں ایک اہلکار شہید اور دوسرا زخمی ہو گیا۔ ڈان کے مطابق پولیس نے بتایا کہ نامعلوم حملہ آوروں نے اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کی اور دستی بم بھی پھینکا، جس کے بعد وہ موقع سے فرار ہو گئے۔
واقعے کے بعد پولیس کی اضافی نفری جائے وقوعہ پر پہنچی اور علاقے میں حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔ دستیاب رپورٹ میں شہید اور زخمی اہلکار کی شناخت، زخمی کی حالت یا حملہ آوروں کی تعداد کی تفصیل فوری طور پر فراہم نہیں کی گئی۔ پولیس نے یہ بھی نہیں بتایا کہ کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
حکام کے مطابق حملہ ہسپتال کے داخلی مقام پر ڈیوٹی دینے والے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔ واقعے کی نوعیت، استعمال ہونے والے اسلحے اور حملہ آوروں کی شناخت سے متعلق مزید تفتیش جاری ہے۔ جب تک تفتیش یا کسی معتبر ذریعے سے ذمہ داری کی تصدیق نہ ہو، حملے کو کسی مخصوص تنظیم سے منسوب کرنا درست نہیں ہوگا۔
یہ واقعہ ٹانک ضلع میں اسی ہفتے پولیس پر ہونے والے ایک اور مہلک حملے کے بعد پیش آیا۔ اس سے قبل وزیرآباد بازار کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے ٹریفک پولیس کی موبائل وین پر فائرنگ کی تھی جس میں تین ٹریفک پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔ حملہ آور پولیس کی گاڑی بھی لے گئے تھے، جو بعد میں برآمد کر لی گئی۔ دونوں واقعات الگ حملے ہیں اور دستیاب معلومات میں ان کے درمیان کسی براہ راست تعلق کی تصدیق نہیں کی گئی۔
خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حالیہ عرصے میں مسلسل سکیورٹی خطرات کا سامنا رہا ہے۔ جنڈولہ واقعے میں اس وقت قابل تصدیق مرکزی معلومات پولیس کی جانب سے ایک اہلکار کی شہادت، دوسرے کے زخمی ہونے، فائرنگ اور دستی بم کے استعمال اور بعد ازاں سرچ آپریشن کے آغاز کی تصدیق ہے۔ حملہ آوروں کی شناخت اور محرکات کے بارے میں مزید تفصیلات تفتیش مکمل ہونے پر سامنے آ سکتی ہیں۔
