کراچی/ہیمبرگ: ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کو 1 لاکھ 85 ہزار ٹن گندم خریدنے اور درآمد کرنے کے ٹینڈر میں مختلف پیشکشیں موصول ہوئی ہیں۔ یورپی تاجروں کے ابتدائی اندازوں کے مطابق سب سے کم قیمت تقریباً 339.36 ڈالر فی ٹن، لاگت اور فریٹ سمیت، بتائی گئی ہے۔ یہ ٹینڈر پیر کو بند ہوا تھا اور ٹی سی پی موصول ہونے والی بولیوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

ڈان میں شائع رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق کم ترین سمجھی جانے والی پیشکش تقریباً 60 ہزار ٹن گندم کے لیے تجارتی ادارے بنگے کی جانب سے دی گئی۔ تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار یورپی تاجروں کے ابتدائی جائزے پر مبنی ہیں، قیمتوں اور مقداروں کے تخمینوں میں بعد میں تبدیلی ہو سکتی ہے اور ابھی تک کسی خریداری یا معاہدے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ تاجروں کے مطابق ٹی سی پی کی جانب سے فیصلہ آئندہ دنوں میں متوقع ہے۔

یہ ٹینڈر ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی گندم منڈی میں سپلائی کے راستوں پر دباؤ بڑھا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق لڑائی کے باعث بحیرہ اسود کے راستے روسی اور یوکرینی سستی گندم کی سمندری برآمدات تقریباً رکنے کے قریب ہیں، جس سے متبادل ممالک سے دستیاب گندم نسبتاً مہنگی پڑ سکتی ہے۔ پاکستان جیسے بڑے درآمدی خریداروں کے لیے فریٹ، اصل ملک، ترسیل کے وقت اور عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بولیوں کی حتمی لاگت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

ٹی سی پی ایک سرکاری تجارتی ادارہ ہے جو حکومت کی ہدایات اور متعلقہ پالیسی فیصلوں کے تحت مختلف اجناس کی درآمد یا خریداری میں کردار ادا کرتا ہے۔ اس ٹینڈر کے بارے میں دستیاب رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ تمام 1 لاکھ 85 ہزار ٹن ایک ہی سپلائر سے خریدے جائیں گے یا مختلف لاٹس میں تقسیم ہوں گے۔ اسی طرح ابھی یہ بھی طے شدہ نہیں کہ کم ترین قیمت والی پیشکش حتمی طور پر منظور ہوگی، کیونکہ ٹینڈر کی تکنیکی اور تجارتی شرائط کی جانچ خریداری کے فیصلے سے پہلے کی جاتی ہے۔

گندم کی درآمد کا معاملہ پاکستان میں مقامی پیداوار، سرکاری ذخائر، قیمتوں اور کسانوں کے مفادات کے تناظر میں حساس معاشی بحث کا حصہ بھی رہتا ہے۔ موجودہ پیش رفت فی الحال صرف ٹینڈر میں بولیاں موصول ہونے تک محدود ہے۔ کسی حتمی درآمدی معاہدے، ادائیگی، سپلائی شیڈول یا ملکِ مبدا کے بارے میں مصدقہ اعلان سامنے نہیں آیا، اس لیے ابتدائی تجارتی اندازوں کو حتمی خریداری کے طور پر بیان کرنا درست نہیں ہوگا۔